اسلام آباد(ممتازنیوز)عالمی مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) اور پاکستان کے معاہدے کے تناظر میں پی ٹی آئی کے سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے خزانہ محسن لغاری اور تیموراسلم جھگڑا سے مبینہ ٹیلی فونک بات چیت کی آڈیو لیک ہونے کے بعد اس لیک آڈیو ٹیپ کے مرکزی کردار شوکت ترین اور پنجاب کے وزیرخزانہ محسن لغاری ابھی تک منظر سے غائب ہیں۔تیمور اسلم جھگڑ ا نے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل سے ملاقات کے بعد اسد عمر کے ساتھ پریس کانفرنس میں اپنانقطہ نظر بیان کرکے سرپلس بجٹ پر وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کو لکھے گئے اپنے خط کو درست قراردیا۔اسدعمر اورتیموراسلم جھگڑا نے آڈیوٹیپ کو میڈیا میں ایشو بنانے پر (ن) لیگ کی سخت مذمت بھی کی ،شوکت ترین کے میڈیا کےسامنے نہ آنے پر بنی گالہ میں اجلاس کے بعد فوادچودھری سے جب صحافیوں نے سوال کیا تو انہوں نے اسے ٹالتے ہوئے کہاکہ شوکت ترین یہیں ہیں اور وہ میڈیا کے سامنے آتے رہتے ہیں جبکہ پنجاب کے وزیرخزانہ محسن لغاری جنہوں نے شوکت ترین سے بات چیت میں کہاکہ وفاق کو خط لکھنے کو ریاست کو تو نقصان نہیں ہوگااورکیاپاکستان اس کا متحمل ہوسکے گا، کا موقف اختیارکیا تھا،وہ بھی ابھی تک سامنے نہیں آئے۔
آڈیولیگ کے دومرکزی کردارشوکت ترین،محسن لغاری منظر سے غائب








