دبئی (طاہر منیر طاہر)سرحد یونیورسٹی راس الخیمہ اور جی ایم انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیزکے ڈائریکٹرپروفیسر شاہد اقبال کاہلوں نے کہاہے کہ جب سے متحدہ عرب امارات کا قیام عمل میں آیا ہےتب سے اس ملک کی تعمیر و ترقی میں پاکستانیوں کا کردار مثالی رہا ہے جس کا اظہار یہاں کے شیوخ بھی کر چکے ہیں اور امارات میں پاکستانیوں کی مختلف شعبوں میں گرانقدر خدمات کے معترف بھی ہیں جو یہاں مقیم پاکستانیوں کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے،دبئی میں مقیم ضلع سیالکوٹ پاکستان کے ایک محب وطن پاکستانی پروفیسر شاہد اقبال کاہلوں نے امارات میں مقیم پاکستانیوں کو سستی اور بین الاقوامی معیار کی تعلیم فراہم کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔
ایک ملاقات کے دوران شاہد اقبال کاہلوں نے کہا کہ وہ امارات میں مقیم پاکستانیوں میں سب سے کم عمری میں میتھ میں پی ایچ ڈی کرنے والے واحد شخص ہیں جو نہ صرف میرے بلکہ یہاں مقیم ہر پاکستانی کے لیے فخر کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہلیت کی بنیاد پر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 2018 میں انہیں سرحد یونیورسٹی کا ڈائریکٹر مقرر کیا اور وہ اب بھی بطور ڈائریکٹر کام کر رہے ہیں۔
سرحد یونیورسٹی راس الخیمہ اور جی ایم انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیزکے بارے معلومات فراہم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امارات میں قائم دیگر یونیورسٹیوں کی نسبت متذکرہ تعلیمی ادارے بین الاقوامی معیار کی تعلیم کم فیسوں میں فراہم کررہے ہیں جو حصول تعلیم کے شائق لوگوں کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔
پروفیسر شاہد اقبال کاہلوں نے بتایا کہ سرحد یونیورسٹی راس الخیمہ اور جی ایم انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیزمیں نہ صرف پاکستانی بلکہ انڈیا، سوڈان، سری لنکا، افغانستان، نائجیریا اور عرب ممالک کے طلباء و طالبات بھی زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں، اس وقت ہمارے متذکرہ تعلیمی اداروں میں اٹھارہ سال سے لے کر ساٹھ سال کی عمر کے لوگ ریگولر اور آن لائن حصول تعلیم میں مصروف ہیں۔
شاہد اقبال کاہلوں نے بتایا کہ ہمارا سارا سٹاف اعلی تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ہے جو کسی بھی بین الاقوامی یونیورسٹی کے مقابلہ کی اہلیت رکھتا ہے۔
پروفیسر شاہد اقبال کاہلوں نے متذکرہ پاکستانی یونیورسٹیوں میں پاکستانیوں کی دلچسپی کے بارے بتایا کہ سرحد یونیورسٹی راس الخیمہ اور جی ایم انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیزکے بارے آگاہی مہم کے بعد اب نہ صرف پاکستانیوں بلکہ دیگر اقوام عالم کے لوگوں نے بھی دلچسپی لینا شروع کر دی ہے جو حوصلہ افزا بات ہے۔
انہوں نے پاکستانیوں سے کہا کہ وہ اپنے ملک کی یونیورسٹی کو کامیاب بنائیں اور اپنے بچوں کو اعلی تعلیم میں متذکرہ یونیورسٹیوں میں داخل کروائیں تا کہ ان کے بچے پاکستانی کلچر اور ملکی روایات سے بھی روشناس رہیں۔










