اسلام آباد(ممتازنیوز) ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کا بھارت کیساتھ تجارت کا فی الفور کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال مون سون کی غیر معمولی صورتحال کی وجہ سے پاکستان کو بہت نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران 1600 سے زائد عوام زخمی ہوئے ہیں جبکہ 735000 لائیو اسٹاک ختم ہو گیا ہے جس کے ازالے کے لئے حکومت پاکستان نے ایک مربوط ریسکیو و ریلیف آپریشن شروع کیا ہے، اوور سیز پاکستانی بھی اس آفت سے نمٹنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور ہم اپنے دوست ممالک و شراکت داروں کی جانب سے یکجہتی دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سیلاب متاثرین کی ضرورت کے لئے ریسپانس پلان میں 160 ملین ڈالرز کا تخمینہ لگایا گیا جس کے لئے پاکستان نے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر فلیش اپیل لانچ کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ برادر ممالک سمیت دنیا بھر سے سیلاب متاثرین کے لئے اس وقت امداد کا سلسلہ جاری ہے، گذشتہ شب تک 21 پروازیں مختلف ممالک سے امدادی سامان کے کر اتر چکی ہیں جبکہ ٹرین اور زمینی راستے سے آنے والا سامان علیحدہ ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ سیلاب متاثرین کی بنیادی ضرورت خیمے اور چھت ہے اور امدادی سامان میں خیمے ایک بنیادی جزو ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان میں خیمے تیار کرنے کی صنعت کو مکمل طور پر فعال کر دیا ہے جبکہ خوراک اور سبزیوں کی درآمد کے لیے ہمسایہ ممالک سے رابطے میں ہیں تاہم بھارت سے فوری طور پر متاثرین کے لئے سبزیاں یا دیگر اشیا درآمد کرنے کا معاملہ زیر غور نہیں ہے۔
عاصم افتخار احمد نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل 9 اور 10 ستمبر کو پاکستان کا دورہ کریں گے، ان کا دورہ اہمیت کا حامل ہے، وہ اس دورہ میں پاکستان اور متاثرین سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر میں چھ مزید کشمیریوں کو شہید کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج عظیم کشمیری راہنما سید علی گیلانی کی پہلی برسی ہے، جن کو ان کے ساتھی بابائے حریت کا خطاب دیتے تھے، اس موقع پر بھارتی ناظم الامور کو آج دفتر خارجہ میں طلب کیا گیا تھا جہاں سید علی گیلانی کو ایک باوقار تدفین نہ دینے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی بربریت اور غیر اخلاقی مظالم مقبوضہ کشمیر کے عوام کے جذبات کو دبا نہیں سکتے۔
اسکے علاوہ بھارت میں مقید دو کشمیریوں کے معاملے کو نئی دلی میں ہمارا مشن دیکھ رہا ہے، عصمت علی کا نام یکم جولائی 2022 کی قیدیوں کی فہرستوں کے تبادلے میں شامل تھا اور دوسرے قیدی خیام مقصود کے حوالے سے بھی مشن نے معاملہ بھارتی وزارت خارجہ سے اٹھایا ہے۔
پاکستان، بھارت کیساتھ تجارت کا فی الفور ارادہ نہیں رکھتا، ترجمان دفتر خارجہ








