بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

متاثرین حوصلہ مند ،ہمیں اپنے عمل سے مثال قائم کرنی ہے،برطانوی ہائی کمشنر

نوشہرہ(ممتاز نیوز)برطانیہ کی جانب سے ڈیڑھ کروڑ پاؤنڈ کی اضافی امداد کے اعلان کے بعد برطانوی ہائی کمیشنر کرسٹین ٹرنر نے نوشہرہ میں سیلاب سے متاثر گاؤں کاکول آباد میں قائم امدادی مرکز کا دورہ کیا۔ امدادی مرکز برطانوی فلاحی تنظیم اسلامک ریلیف کے زیرانتظام کے سیلاب شدہ افراد کی زندگیاں بچانے کا کام کر رہا ہے۔
برطانیہ کی جانب سے دی گئی امداد صاف پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور طہارت کی سہولیات کی فراہمی، پناہ گاہوں کی تعمیر اور گھروں کی مرمت، اور صحت عامہ بالخصوص خواتین اور بچیوں کی صحت پر خرچ کی جائے گی۔
اسلامک ریلیف ورلڈ وائڈ کے سی ای او وسیم احمد اور اسلامک ریلیف پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر آصف شیرازی بھی ہائی کمشنر کے ہمراہ تھے۔ ہائی کمشنر نے سیلاب سے ہونے والی تباہ حالی کا جائزہ لیا۔ کیمپ میں موجود افراد سے یکجہتی کا اظہار کیا، ان کو درپیش مشکلات اور امدادی کام کا جائزہ لیا اور پاکستان کے لیے برطانوی حمایت کا اعادہ کیا۔
اسلامک ریلیف، ڈیزاسٹر ایمرجنسی کمیٹی (ڈی ای سی) کی رکن تنظیم ہے۔ سیلاب زدہ پاکستانی علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے ڈی ای سی کی جانب سے عطیات کی اپیل کی گئی ہے۔ برطانوی حکومت اس اپیل کے جواب میں دیئے جانے والے عطیات کے برابر رقم عطیہ کر گی جس کی کُل مالیت پچاس لاکھ پاؤنڈ تک ہو سکتی ہے۔ یہ پچاس لاکھ پاؤنڈ برطانیہ کی جانب سے اعلان کی گئی ڈیڑھ کروڑ پاؤنڈ امداد کا حصہ ہے۔
ہائی کمشنر نے کاکول آباد گاؤں کا بھی دورہ کیا اور متاثرہ افراد سے ملاقات کی۔
اس موقع پر برطانوی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ متاثرین حوصلہ مند ہیں اور تعمیرنو کے لیے پر عزم لیکن انہیں پانی، شیلٹر اور طہارت کی سہولیات کی ضرورت ہے، برطانیہ یہ سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہمیں اپنے عمل سے مثال قائم کرنی ہے۔
اسلامک ریلیف کے کنٹری ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ صورت حال ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب تر ہو رہی ہے۔ یہ ماضی کے سیلابوں سے زیادہ خوفناک ہے۔ ہم تین اگست سے ان علاقوں میں کام کر رہے ہیں اور ملک بھر میں پانی، شیلٹر اور طہارت کی سہولیات فراہم کرنے کوشش کر رہے ہیں۔ اب تک ہم تیس ہزار افراد تک امداد پہنچا چکے ہیں اور اگلے ہفتے تک یہ تعداد دگنی ہو جائے گی۔ ہمارا ارادہ پانچ لاکھ افراد کو ہنگامی مدد فراہم کرنا ہے۔ یہ ضروریات برطانیہ کی مدد سے ہی پوری ہو سکتی ہیں اور برطانیہ کی جانب سے دی گئی انسانی امداد اور ڈی ای سی کی اپیل اہم ہے۔ ہم برطانوی حکومت اور دیگر ممالک سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ امداد میں اضافہ کریں۔