اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان میں بسنےوالے لاکھوں ہندوؤں نے ہولی کا تہوار منایا ، ایک دوسرے کو رنگ لگاکر پیار ،محبت اور خوشی کا اظہار کیا۔
عمرکوٹ میں ہولی سے 15 دن پہلے سے ہی تہوار کی خوشیوں کو دوبالا کرنےکےلیے تیاریاں شروع کردی جاتی ہیں جن میں ڈانڈیا رقص، کبڈی ہولی کے نغموں سمیت مختلف کھیلوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس کا ہر کوئی حصہ بن جاتا ہے ، خواتین بھی ہولی کے کھیلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور ایک دوسرےکو رنگ لگا کر خوشی کااظہار کیاجاتاہے ۔

ہولی کے دن مٹکا کھیل دائرے میں صرف رنگ ہی ہوتے ہیں ہولی کےتہوار پر ہندو خواتین اور مردوں نے میڈیاسے بات چیت کرتےہوئےکہاہم آئین پاکستان کےتحت مکمل آزادی کےساتھ ہولی کی خوشیوں کو بھرپور طور پرمنارہے ہیں ، ہمیں اپنے پورے مساوی حقوق حاصل ہے عمرکوٹ کو تو ویسے ہی مذہبی رواداری کا مرکز مانا جاتا ہے جہاں عیدیں، دیوالی، ہولی کی خوشیاں ہر گھر کی رونق ہوتی ہیں مسلمان ہماری خوشیوں میں اور ہم مسلمانوں کی خوشیوں میں شریک ہوتےہیں ۔
ہولی کے تہوار آنے پر ہزاروں دل خوشیوں میں جھوم اٹھتے ہیں اس نفسانفسی کے دور میں ہمارے پاس مایوسیوں کو مٹانے کی بس چند ہی وجوہات رہ گئی ہیں تو کیوں نہ انہیں دل کھول کہ منایا جائے ہولی کے رنگ امن بھرے معاشرے اور خوشیاں بانٹنے کی روایتوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔








