اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)ہماری کوشش ہے کہ ترقی یافتہ ہماری کوشش ہے کہ پاکستان سے ترقی یافتہ ممالک کو افرادی قوت برآمد کی جائے۔یہ بات وزیر برائے سمندر پار پاکستانی اورترقی انسانی وسائل ساجد حسین طوری نے آسٹریلوی سفیر برائے انسانی اسمگلنگ مس لوسین مینٹن سےملاقات میں کہی۔ساجد حسین طوری نے کہا کہ پاکستان کے آسٹریلیا کے ساتھ قریبی، دوستانہ اورتعاون پر مبنی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک نے مختلف کثیرالجہتی فورمز پر ملکر کام کیا ہےاورمختلف مسائل پرایک دوسرے کے اصولی موقف کا احترام کیا ہے۔انہوں نے آسٹریلیا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کی خواہش اورعزم کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی وبا کووڈ 19نے دنیا بھر میں پاکستانی کمیونٹی کیلئے سنگین مسائل پیدا کیے ہیں اورہم ان تمام مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنےوالے پاکستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو آسٹریلوی حکومت کی دیکھ بھال، تعاون اور بہتر سہولت کی ضرورت ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ ان کا بھرپو خیال رکھاجائیگااورانکے مسائل حل ہونگے۔
انسانی اسمگلنگ اورغیرقانونی تارکین سے متعلق امور پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر ساجد حسین طوری نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ انسانی اسمگلنگ اورغیرقانونی طورپر بیرون ممالک جانے کی حوصلہ شکنی ہےاوراسکی روک تھام کیلئےتمام ممالک نےباہم تعاون سے کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وہ مزدور اورپروفشنلز کی قانونی نقل مکانی کی وکالت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک پاکستانی مزدور، ورکرز اور پروفشنلز کے لئے مواقع فراہم کریں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی خواہش ہے کہ آسٹریلیا پاکستان سے افرادی قوت کے برآمدکاباقاعدہ معاہدہ کریں تاکہ قانونی ایمگریشن کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔
انہوں سیلاب زدگان کیلئے امدادی امداد پر آسٹریلوی حکومت اوراسکے عوام کا شکریہ ادا کیا۔آسٹریلوی سفیر نے سیلاب زدگان کیلئےآسٹریلوی حکومت اور اس کے عوام کیطرف سے مکمل تعاون اور مدد کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
دریں اثناوفاقی وزیرساجد حسین طوری سے عراقی سفیر حامد عباس نے بھی ملاقات کی اور دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں عراق کی طرف سے ویزہ پر پابندی اور زائرین کے مسائل و سہولیات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ساجد حسین طوری نے کہا کہ عراق اور پاکستان کے مابین مضبوط تاریخی، روحانی اور ثقافتی رشتہ ہے اور پاکستان عراق کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔انہوں عراقی سفیرکو بتایا کہ اسوقت پاکستانیوں کو عراق کے ویزے حصول میں پریشانیوں کاسامناہےاورہزاروں لوگ ایران و عراق بارڈر پر پھنسے ہوئے ہیں جنکوعراق میں داخلےکی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔وفاقی وزیر ساجد طوری نے عراقی سفیر سے کہا کہ زیارت پرجانےوالے پاکستانی خواہشمند افراد کواربعین کیلئے ویزےجاری کئے جائیں اورزمینی راستوں سے جانےوالے زائرین کو عراقی سرحدات کھلے جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن افراد کو عراقی ویزے ایشو ہوئے ہیں انکو اوکے ٹو بورڈ کی شرط ہٹادی جائے، اربعین کے بعد عراقی حکومت کے ساتھ ملکر جامع زیارات پالیسی مرتب کرینگے۔
سیلاب زدگان کیلئے امدادی امداد پر آسٹریلیاکے شکرگزار ہیں ، ساجد حسین طوری








