لاہور(نیوزڈیسک)کرپشن کے خلاف تحقیقات کرنے والے ادارے قومی ادارہ برائے احتساب (نیب) نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
غیر ملکی ویب سائٹ کے مطابق نیب نے عثمان بزدار کے خلاف ایک کیس میں تحقیقات شروع کی ہیں اور معاملہ ابھی کمپلینٹ ویریفیکیشن مرحلے پر ہے۔‘
’ایک درخواست نیب میں داخل کی گئی ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ نے تقرریوں اور تبادلوں کے لیے نہ صرف اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا بلکہ کرپشن بھی کی۔‘
’اس درخواست پر تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے پنجاب کے چیف سیکریٹری کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں عثمان بزدار کے دور حکومت میں ہونے والی تقرریوں اور تبادلوں کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔‘
’اس کے بعد اس ریکارڈ کی چھان بین کی جائے گی اور اگر ضرورت پڑی تو سابق وزیراعلٰی کو طلب بھی کیا جائے گا۔‘
نیب میں دائر کی جانے ایک درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے ایک قریبی عزیز سمیت تین جونیئر افسران کو سنیارٹی نظر انداز کرتے ہوئے چیف انجینئر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔
فیاض بزدار کو 33 ویں، سہیل اکرم کو 31 ویں اور نوید بھٹی کو 35 ویں نمبر سے اٹھا کر ترقی دی گئی۔‘
مبینہ طور پر یہ ترقیاں محکمہ مواصلات و تعمیرات میں کی گئی تھیں۔ نیب لاہور نے چیف سیکریٹری کو لکھے گئے مراسلے میں 18 ستمبر تک محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں آؤٹ آف ٹرن ترقیوں کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔
اسی طرح ترقی پانے والے افسران کے اثاثہ جات کی تفصیل بھی نیب نے طلب کر رکھی ہے۔ ترجمان نیب کے مطابق ’نیب کو ایک ایسی درخواست ضرور موصول ہوئی ہے البتہ معاملہ ابھی ابتدائی سطح پر ہے اس کی مزید تفصیل میڈیا سے شیئر نہیں کی جاسکتی۔‘
خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی نیب عثمان بزدار کو ایک کیس میں طلب کر چکا ہے تاہم اس وقت وہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز تھے۔ ان پر اس وقت الزام تھا کہ انہوں نے ایک نئے بننے والے ہوٹل کو شراب بیچنے کا لائسنس جاری کیا تھا۔
نیب نے سابق وزیراعلٰی کے سابق پرنسپل سیکریٹری طاہر خورشید کے خلاف بھی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔









