کراچی(ممتازنیوز) کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد ادریس اور چیئرمین بزنس مین گروپ (بی ایم جی) زبیر موتی والا نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ واہگہ بارڈر کے راستے بھارت سے خام کپاس (پُھٹی) اور کھانے پینے کی اشیاء بشمول سبزیاں، پھل اناج اور دیگر ضروری مصنوعات کی درآمد کی فوری اجازت دے کیونکہ سیلاب نے تمام زرعی فصلوں کو مکمل طور پرتباہ کردیا ہے جس کے وجہ سے پاکستان کو ان تمام مصنوعات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
ایک بیان میں چیئرمین بی ایم جی زبیر موتی والا نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے تباہی اور اربوں روپے کے نقصانات کے علاوہ خوراک کا بحران پیدا ہوگیا ہے چونکہ سندھ اور بلوچستان میں خام کپاس، مرچ، گوبھی، پیاز اور دیگر پھل اور سبزیوں کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں اور زرعی اراضی اب تک زیر آب ہے جبکہ مویشی بھی سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں لہٰذا واہگہ بارڈر کھولنا اور بھارت سے اجناس کی درآمد کی اجازت دینا ناگزیر ہو گیا ہے تاکہ ہمارے پڑوسی ملک سے مسابقتی نرخوں پر کم سے کم وقت میں اشیائے خورونوش درآمد کر کے ہمارے ملک کی غذائی ضروریات اور صنعت کی زرعی ان پٹ کی ضروریات کو فوری طور پر پورا کیا جا سکے۔
زبیر موتی والا نے کہا کہ حکومت کو غذائی بحران روکنے کے لیے سمجھداری سے کام لینا ہوگا۔ پاکستان کی 65 فیصد اہم غذائی فصلیں بشمول 80 فیصد گندم، چاول اور خام کپاس وغیرہ سیلاب کے دوران مکمل طور پر بہہ گئی ہیں اور 30 لاکھ سے زائد مویشی بھی مر چکے ہیں۔ اس صورتحال میں سب سے دانشمندانہ اقدام یہ ہوگا کہ ان تمام مصنوعات کو لاجسٹک کے بھاری اخراجات اور بہت زیادہ درکار وقت والے دوسرے ممالک کی نسبت بھارت سے کم لاجسٹک لاگت اور وقت کے ساتھ درآمد کیا جائے۔
چیئرمین بی ایم جی نے خبردار کیا کہ زرعی فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات سے پاکستان کی بحالی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور اگر بھارت سے خام کپاس کی بروقت درآمد کی اجازت نہ دی گئی تو پیداوار کم ہونے سے ٹیکسٹائل کی برآمدات کم ہو جائیں گی جیسا کہ کپاس ٹیکسٹائل کی پیداوار کا بنیادی اور سب سے اہم خام مال ہے۔ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں کمی پہلے سے بیمار اور ضرورت سے زیادہ بوجھ سے دوچار معیشت کی صورتحال کو مزید خراب کر دے گی۔
کے سی سی آئی کے صدر محمد ادریس نے کہا کہ پاکستان زرعی مصنوعات کی مقامی پیداوار پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے لیکن اب ظاہر ہے کہ گندم، چاول، خام کاٹن (پُھٹی)، اناج اور سبزیاں وغیرہ درآمد کرنی پڑیں گی لہٰذا بہتر ہے کہ بھارت سے درآمد کیا جائے جو اجناس اور مویشی بھی بہت زیادہ پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقامی منڈیوں میں سبزیوں اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہونے سے وہ ناقابل برداشت اور معاشرے کے غریب طبقے کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔ اس لیے حکومت کو کوئی وقت ضائع کیے بغیر فوری طور پر بھارت سے زرعی درآمدات کی اجازت دینی چاہیے تاکہ قیمتیں مستحکم رکھی جاسکیں اور ملکی عوام بھوک اور افلاس سے بچ سکیں۔
تاجروں کی حکومت سے بھارت سے براہ راست اجناس درآمد کرنے کی اپیل








