بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

تحریک عدم اعتماد، سپریم کورٹ میں ممکنہ تصادم روکنے کیلئے درخواست سماعت کیلئے مقرر

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے درمیان تصادم کے ممکنہ خطرے پر سپریم کورٹ بار کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی۔

تصادم کے ممکنہ خطرے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے آئینی درخواست سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر کی تھی۔

سماعت کچھ دیر بعد ہو گی

عدالتِ عظمیٰ میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت اب سے کچھ دیر بعد ہو گی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے یہ درخواست پیر کو سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی۔

اس حوالے سے عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد پولیس کو بھی ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

درخواست میں وزیرِ اعظم عمران خان، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزارتِ داخلہ، وزارتِ دفاع، آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ہے۔

سوموٹو نہیں لیا گیا

سپریم کورٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سندھ ہاؤس پر حملے کے بعد یہ درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔

ترجمان سپریم کورٹ نے بتایا ہے کہ سوموٹو نہیں لیا گیا ہے، 2 رکنی بنچ احسن بھون کی پٹیشن پر سماعت کرے گا۔

سپریم کورٹ کے ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پٹیشن سیاسی جماعتوں کو تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل اسلام آباد میں جلسے سے روکنے سے متعلق ہے۔

سندھ ہاؤس پر PTI کارکنوں کا دھاوا

واضح رہے کہ حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں نے گزشتہ روز اسلام آباد میں سندھ ہاؤس پر دھاوا بول دیا اور گیٹ توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔

پی ٹی آئی کارکنان نے ہاتھوں میں لوٹے اورڈنڈے اٹھا رکھے تھے، انہوں نے منحرف ارکان اور حزبِ اختلاف کے خلاف جبکہ وزیرِ اعظم عمران خان کے حق میں نعرے لگائے۔

اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری سندھ ہاؤس کے باہر پہنچ گئی جس نے پی ٹی آئی کارکنوں کو واپس جانے کی ہدایت کی۔

PTI کارکنوں کی پولیس سے تلخ کلامی

اس دوران پی ٹی آئی کارکنوں نے اسلام آباد پولیس کے ایس پی سے تلخ کلامی کی اور سندھ ہاؤس کے باہر سے واپس جانے سے انکار کر دیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے اراکین اپنی سیٹوں سے استعفیٰ دیں۔

اس دوران پی ٹی آئی کے کارکنان مشتعل ہو گئے جو سندھ ہاؤس کا گیٹ توڑ کر اندر داخل ہو گئے اور نعرے بازی کی۔