اسلام آباد،لندن(ممتازنیوز)پاکستانی سیلاب زدگان کےلئے برطانیہ میں زیرتعلیم اپنے بچوں کے اخراجات پوراکرنا مشکل ہوگیا ،طلبہ نے اپنی تعلیمی اخراجات خود اٹھانے کےلئے حکومت پاکستان سےان کے کام کرنے پرعائد پابندی کا معاملہ برطانوی حکام کے ساتھ اٹھانے کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں زیرتعلیم پاکستانی طلبہ کو ہفتے میںصرف بیس گھنٹے کام کرنے کی اجازت ہے یو ں وہ سال میں صرف آٹھ ہزار پاؤنڈ کما سکتے ہیں جب کہ برطانیہ کی اچھی جامعات کی سالانہ فیس 25ہزار پاؤنڈ ہےطلبہ کو فیس ودیگر تعلیمی اخراجات پاکستان میں مقیم ان کے خاندان بھجواتے ہیں لیکن اب سیلاب سے متاثرہ ایسے خاندان جن کے بچے برطانیہ میں زیرتعلیم ہیں وہ بہت پریشان ہیں کیوں ان کے لئے بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں رہا۔اس صورت کے پیش نظر برطانیہ میں زیرتعلیم طلبانے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ برطانیہ میں پاکستانی طلبہ کے کام کرنے پر عائد پابندی کے خاتمے کے لئے کرداراداکرے اورمتعلقہ برطانوی حکام کے ساتھ یہ معاملہ بھرپورانداز میں اٹھائے تاکہ وہ اپنے تعلیمی اخراجات خود برداشت کرسکیں جب کہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مہم بھی چلائی جارہی ہے۔
Pak🇵🇰students in Eng🇬🇧 are only allowed to work 20 hours a week,they earn £8,000 a year while fees for good universities are £25,000 a year. Families are facing floods and economic crisis and are unable to pay the fees.Students appeal that the work ban be lifted. @CTurnerFCDO pic.twitter.com/s3MY6q5GLD
— Adam Ali (@AdamAliPak) September 16, 2022









