اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) خاتون جج کو دھمکی دینے سے متعلق توہین عدالت کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں معافی مانگ لی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو حلف نامہ جمع کرانے کے لیے 29 ستمبر تک کی مہلت دی اور کیس کی سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
تفصیلات کے مطابق توہین عدالت کیس میں عمران خان روسڑم پرآئے عمران خان نے ججز سے بات کرنے کی اجازت مانگ جس پر عدالت نے انھیں اجازت دی۔
عمران خان نے عدالت سے کہا کہ میرا جج صاحبہ کو تھریٹ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں خاتون جج کے پاس جاکر وضاحت دینے کو تیار ہوں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں خاتون جج سے معافی مانگنے کو تیار ہوں۔ مستقبل میں کچھ ایسا نہیں کروں گا۔ میں ہمیشہ رول آف لاء کی بات کرتا ہوں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے لائن کراس کی ہے تو میں بتانا چاہتا ہوں میں نے کبھی ایسا کرنے کی نیت نہیں تھی۔
عمران خان کے بیان کے بعد اسلام آباد ہائی کوئی کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بننچ نے مشاورت کی اور عمران خان کے خلاف فرد جرم عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم آپ کے بیان کو سراہتے ہیں۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، شاہ محمود قریشی، شبلی فراز اور عمران خان کے وکیل حامد خان اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے ہیں۔ اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو احاطہ عدالت میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔
عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی کے حوالے سے پولیس سکیورٹی آرڈر جاری کر دیا گیا ہے اور آج کی پیشی پر2 ایس پیز سمیت 710 افسران و اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ہائیکورٹ کے گرد مانیٹرنگ کی جائے گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے اندر حفاظتی انتظامات کی ذمہ داری سکیورٹی ڈویژن کی ہو گی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے اندر ایف سی اور رینجرز کے اہلکار بھی تعینات ہوں گے۔
سکیورٹی آرڈر کے مطابق عدالت کے روف ٹاپ کے علاوہ تمام افسران اور اہلکار غیر مسلح ہوں گے، ہائیکورٹ کے باہر سکیورٹی کی ذمہ داری ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر کی ہو گی اور ڈیوٹی پر تعینات کوئی بھی اہلکار موبائل فون استعمال نہیں کرے گا۔
وائرلیس کا استعمال ڈیوٹی کے لیے ہو گا اور غیر ضروری استعمال پر محکمانہ کارروائی ہو گی
اسلام آباد ہائیکورٹ کے اطراف خاردار تاریں لگا کر راستہ بند کردیا گیا ہے، 500 شارٹ رینج اور 500 لانگ رینج آنسو گیس شیل اور شیلنگ والی بکتر بند گاڑیاں موجود ہوں گی۔ اس کے علاوہ پولیس لائنز میں 3 ہزار شیل اور گاڑیاں تیار کھڑی ہوں گی۔
یاد رہے کہ خاتون جج کو دھکیوں سے متعلق توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئر مین پی ٹی آئی کو غیر مشروط معافی مانگنے کے لیے دو مواقع فراہم کیے تھے تاہم عمران خان نے غیر مشروط معافی مانگنے کے بجائے اپنے الفاظ واپس لینے اور آئندہ محتاط رویہ اختیار کرنے کا جواب عدالت میں جمع کرایا۔









