بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سیاسی اور عسکری مقاصد کا حصول ،فضائی طاقت سیاسی و عسکری قیادت کا ترجیحی انتخاب بن چکی ہے،سیمینار

اسلام آباد(ممتاز نیوز)پاک فضائیہ کے سابق افسران اوردفاعی ماہرین نے کہاکہ سیاسی اور عسکری مقاصد کے حصول کے لیے فضائی طاقت عملی طور پر سیاسی و عسکری قیادت کا ترجیحی انتخاب بن چکی ہے،جمعہ کوسینٹر فار ایروسپیس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے زیر اہتمام منعقد کردہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایئر وائس مارشل ناصر الحق وائیں ریٹائرڈ مشیر ایئر ہیڈ کوارٹر ، ایئر وائس مارشل فائزامیر ریٹائرڈ سابق وائس چانسلر ایئر یونیورسٹی ، اور ایئر مارشل فاروق حبیب ریٹائرڈ سینئر ڈائریکٹر CASS ودیگرکاکہناتھاکہ عالمی نظام میں تبدیلی محض قیادت کی سادہ اور عمومی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک گہرا اور دوررس نتائج رکھنے والا تغیر و تبدل ہوگا۔ اس تبدیلی کے امر کے دوران عالمی سطح پر کئ سنگین مسائل اور جنگی تنازعات بھی رونما ہو سکتے ہیں۔ایئر مارشل فاروق حبیب نے پاک بھارت تناظر میں فضائی طاقت کے استعمال پر بات کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستانی اور بھارتی مملکتوں کے جوہری قوت بن جانے کے باعث، مکمل یا محدود پیمانے پر روایتی جنگ کے امکانات تقریبا ختم ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ بھارتی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن بھی پاکستانی روایتی اور جوہری ڈیٹیرنس کے باعث بیکار ہو گئی ہے۔ نتیجتاً, بھارت نے مخلوط (ہائیبرڈ) طرِز جنگ کا راستہ اختیارکر لیا ہے۔ داخلی طور پر سیاسی پذیرائی حاصل کرنے کے لیے بھارت دوبارہ 2019 کی طرز پر اقدامات کر سکتا ہے لیکن ایسے حاالت سے نمٹنے کے لیے پاک فضائیہ ہمہ وقت تیار ہے۔اپنے اختتامی کلمات میں ائیر مارشل فرحت نے مقررین اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور اس پہلو پر روشنیڈالی کہ باقی حربی قوتوں کے مقابلہ میں فضائی قوت میں تیز رفتار جدت دیکھنے میں آئی ہے۔ اکیسویں صدی میں بیشتر ٹیکنالوجیز نے ہوا بازوں اور منصوبہ سازوں کو زیادہ دورانیئے کی فضائی پروازوں، صورتحال سے بہتر آگہی کے نظام، اور محدود وسائل کے ساتھ جنگی افادیت بڑھانے کی استعداد بہتر بنانے میں مدد کی ہے۔ انہوں نے سفارش کی کہ پاکستان کو خود انحصاری کا راستہ اپناتے ہوئے علمی تربیت، تحقیق و ترقی اور اپنی ٹیکنالوجیز بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔سینئرحاضر سروس اور ریٹائرڈ ایئر فورس افسران کے علاؤہ 1965 اور 1971 کے غازی افسران نے بھی سیمینار میں شرکت کی اور سوال و جواب کے دور میں بھر پور حصہ لیا ۔ اس موقع پر 1965 اور 1971 کے غازی اور ستارہ جرات کا اعزاز حاصل کرنے والے اسکواڈرن لیڈر غنی اکبر نے CASS کے اولین جریدہ ‘ جرنل آف ایروسپیس اینڈ سیکورٹی سٹڈیز’ کی رونمائی بھی کی۔