اسلام آباد (نیوز ڈیسک) گندم کی قیمتوں کو ریورس گیئر لگ گیا‘ اوپن مارکیٹ میں 3600روپے فی چالیس کلو گرام پر فروخت کرنے والے گندم مافیا کو شدید دھچکا لگنا شروع ہو گیا۔
23ستمبر جمعہ کو اوپن مارکیٹ میں ذخیرہ اندوزوں کی گندم 3600روپے فی چالیس کلو گرام سے کم ہو کر راولپنڈی اسلام آباد میں 3350روپے فی چالیس کلو گرام‘ لاہور‘ گوجرانوالہ‘ سیالکوٹ‘ گجرات میں 3300روپے من تک نیچے آ گئی ہے‘
کراچی میں 3440روپے فی چالیس کلوگرام‘ حیدرآباد میں 3410روپے‘ خیرپور میں 3355روپے‘ رانی پور میں 3355روپے‘ سکھر میں 3312روپے‘ صادق آباد میں 3212روپے‘ ہارون آباد میں 3225روپے‘ حاصل پور میں 3227روپے‘ فقیر والی میں 3247روپے‘ بہاولنگر میں 3287روپے‘ چشتیاں میں 3202روپے‘ چیچہ وطنی میں 3255روپے‘ بورے والا میں 3275روپے‘ ساہیوال میں 3345روپے‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 3260روپے‘ گھوٹکی‘ ڈھرکی‘ پنوعاقل میں 3312روپے‘ میرپور خاص‘ بدین‘ جھڈو‘ ٹنڈو آدم خان‘ شہداد پور میں 3372روپے‘ کنڑی‘ عمرکوٹ‘ ڈگری‘ سمارو‘ سانگھڑ‘ شاہ پور چاکر‘ نوابشاہ‘ داور‘ بانڈی‘ مورو‘ نوشہرو فیروز میں گندم کی قیمت کم و بیش 300روپے فی چالیس کلو گرام کم ہو کر 3387روپے فی من رہ گئی ہے۔
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن شمالی پنجاب کے وائس چیئرمین عاطف ندیم مرزا کے مطابق سیلاب سے پہلے ملک بھر میں گندم کی قیمت 3ہزار روپے من سے کم تھی‘ لیکن جب سیلاب آ گئے تو کراچی جیسے کئی کروڑ آبادی والے شہر سمیت حیدرآباد اور سندھ کے دوسرے بڑے شہروں میں ریل‘ سڑک کے رابطے ٹوٹ جانے کے نتیجے میں گندم کی قیمت میں ملک گیر اضافہ شروع ہو گیا اور پچھلے ہفتے تک گندم کی قیمت اوسطاً 3600روپے فی چالیس کلو گرام تک چلی گئی جبکہ 20کلو پرائیویٹ آٹے تھیلے کی قیمت کراچی‘ کوئٹہ‘ پشاور میں 2400روپے سے تجاوز کر گئی۔









