اسلام آباد (نیوز ڈیسک)آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات میں عمران خان پر واضح کر دیا گیاکہ ان کا فوری طور پر انتخابات کرانے کا مطالبہ پورا نہیں کیا جاسکتا اور اعداد و شمار سامنے رکھ کر بتایا گیا کہ اگر وہ مزیداقتدار میں رہتے تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا۔ صدر عارف علوی ایک دن اچانک آرمی چیف کے گھر جا پہنچے اور کافی دیر تک منتیں کر کے انہیں ایوان صدر میں ملاقات پر آمادہ کیا۔ عمران خان سے شدید مایوس اور دکھی جنرل قمر جاوید باوجوہ وزیراعظم شہبازشریف کو مطلع کر کے ایوان صدر گئے۔ معروف صحافی سلیم صافی نے آرمی چیف سے پی ٹی آئی کے سربراہ کی ملاقات کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عمران خان کے حامی میڈیا نے پہلے ایوان صدر میں اس خفیہ میٹنگ کی خبر لیک کی ، پھرعمران خان نے اپنے رویے سے ایسا تاثر دیا کہ جیسے انہیں پھر اسٹیبلشمنٹ نےگود لے لیا ۔ پھر ساتھ ایک اور جھوٹی خبر پھیلا دی کہ آرمی چیف ایک کورکمانڈر کی گاڑی میں جاکر ایک سیف ہائوس میں عمران خان سے ملے ہیں۔ کچھ ریٹائرڈ فوجیوں کے ذریعے یہ جھوٹ بھی پھیلایا گیا کہ میٹنگ کی کوشش پی ٹی آئی نہیں بلکہ فوج کی طرف سے ہوئی۔ اب یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی جب عمران خان کی خواہش پوری نہیں ہوئی توانہوں نے دوبارہ یوٹرن لیا اور ڈی جی آئی ایس پی آر کانام جلسوں میں لے کر فوج کوعوام کے سامنے آنکھیں دکھانے لگے ۔رپورٹ کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ حکومت سے نکالے جانے کے بعدشاید ہی کوئی روز ایسا گزرا ہو کہ جب عمران خان یاان کے کسی نمائندے نے کسی نہ کسی چینل سے آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی کا منت ترلہ نہ کیا ہو۔ ان کا یہی مطالبہ رہا کہ وہ ماضی کی طرح انہیں گود لے کر موجودہ حکومت کو رخصت کرکے دوبارہ انتخابات کروادیں تو وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ ان رابطوں کے دوران انہوں نے جنرل قمرجاوید باجوہ کو گارنٹی کے ساتھ ایکسٹینشن کی آفر بھی کی لیکن وہ نیوٹرل رہنے پر اصرار کرتے ہوئے ملاقات سے انکار کرتے رہے ۔نہ چیف کے رشتہ داروں کو چھوڑا گیا ، نہ سابق فوجی افسران کو اور نہ ان کے ذاتی دوستوں کو ۔ نوبت یہاں تک آئی کہ افغانستان کے لئے امریکہ کے سابق نمائندے زلمے خلیل زاد سے بھی آرمی چیف کو درخواستیں کروائی گئیں کہ وہ عمران خان سے ایک ملاقات کرلیں ۔ واضح رہے کہ امریکی نیوکانز کے رکن زلمے حکومت کی تبدیلی کے ایک ماہ بعد پاکستان آئے تھے اور عمران خان سے خفیہ اور طویل ملاقات کی تھی۔علاوہ ازیں پنجاب کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی بھی دن رات منت ترلے میں لگے رہے جبکہ صدر عارف علوی بھی ہمہ وقت اسی کام میں لگے رہے لیکن آرمی چیف پھر بھی ملنے کو تیار نہیں تھے۔ نوبت یہاں تک آئی کہ ایک دن اچانک صدرعارف علوی آرمی چیف کے گھر جاپہنچے اور کافی دیر تک منت ترلہ کرکے انہیں اپنے گھر یعنی ایوان صدر میں اپنے لیڈر عمران خان سے ملاقات پر آمادہ کیا چنانچہ عمران خان سے شدید مایوس اور دکھی جنرل قمر جاوید باجوہ وزیراعظم شہباز شریف کو مطلع کرکے اس ملاقات کیلئے ایوان صدر گئے۔ حسبِ عادت عمران خان نے ان سے درخواست کی کہ وہ ایم کیوایم اور باپ پارٹی کو الگ کروا کر موجودہ حکومت ختم کردیں اور فوری انتخابات کروا لیں۔ جواب میں انہیں بتایا گیا کہ پہلے ہی پی ٹی آئی کے لئے غیرآئینی کردار ادا کرنے کی وجہ سے فوج بہت بدنام ہوئی ہے اور وہ دوبارہ یہ غلطی نہیں کرسکتی ۔ان کے سامنے اعدادوشمار رکھ کر بتایا گیا کہ اگر وہ اقتدار میں رہتے تو جون تک ملک ڈیفالٹ کرجاتا جبکہ امریکی سازش کے جھوٹے بیانیے سے بھی انہوں نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ۔ عمران خان اصرار اور عارف علوی وغیرہ بیچ بچائو یا منت ترلہ کرتے رہے تو جواب میں انہیں بتایا گیا کہ ان کی تمام احسان فراموشیوں اور فوج میں تقسیم کی کوشش کے باوجود فوجی قیادت ان کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتی اور نہ یہ چاہتی ہے کہ ان کے ساتھ وہ سلوک ہو جو بھٹو یا نواز شریف وغیرہ کے ساتھ ہوا لیکن فوج انہیں فوری طور پر الیکشن نہیں دے سکتی ۔ وجہ اس کی یہ بتائی گئی کہ موجودہ سیٹ اپ نے آئی ایم ایف سے ڈیل کرکے وقتی طور پر ملک کو دیوالیہ ہونےسے بچالیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاشی استحکام آگیا ہے۔ اب بھی ڈالر اور مہنگائی کنٹرول میں نہیں آرہے ہیں۔ روزانہ فوج اور حکومت کوششیں کرکے چند ارب کا انتظام کرتی اور ملکی انتظام چلاتی ہے جبکہ اوپر سے سیلاب نے کسر پوری کردی ۔ تاہم اگر اتحادی جماعتوں کا آپس میں کوئی مسئلہ آجاتا ہے اور حکومت خود ٹوٹ جاتی ہے یا پھر اگر معاشی استحکام کے بعد متفقہ طور پر سیاسی جماعتیں قبل ازوقت انتخابات کراتی ہیں تو فوج نہ رکاوٹ بنے گی اور نہ مداخلت کرے گی۔انہیں یہ بھی کہا گیا کہ اس وقت بھی دو صوبوں اور گلگت بلتستان میں ان کی حکومت ہے اورمشورہ دیا گیا کہ بہتر ہوگا کہ وہ پارلیمنٹ میں دوبارہ جائیں اور مفاہمت کے ذریعے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے اور نئے انتخابات کا راستہ نکالیں ۔ وہ اگر پاپولر ہورہے ہیں تو فوج ان کا راستہ نہیں روکے گی اور اگر وہ اگلے انتخابات جیتتے ہیں تو آرام سے جیت لیں۔ فوج اسی طرح لاتعلق رہے گی جس طرح پنجاب کے ضمنی انتخابات میں لاتعلق رہی ۔ یوں یہ میٹنگ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئی ۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ شاید اس کے بعد بھی تنائو میں کمی آتی لیکن عمران خان نے پہلے اس میٹنگ کی خبر کو لیک کرایا۔ پھر اس کے بارے میں یہ جھوٹا تاثر دیا کہ جیسے یہ میٹنگ فوج کی خواہش یا مجبوری تھی ۔ پھر کچھ عرصہ چالاکی کا مظاہرہ کرکے یہ جھوٹا تاثر دیا کہ فوج کے ساتھ ان کی پھر ڈیل ہوگئی ہے ۔ اس سے انہوں نے حکومت اور فوج کو آپس میں بدگمان کرنے کی کوشش کی ۔ پھر جنرل فیض حمید کے ذریعے ایک اور خفیہ میٹنگ کی جھوٹی خبر پھیلا دی اور ظاہر ہے ان خبروں سے تمام ادارے متاثر ہوتے رہے لیکن جب انہیں احساس ہوا کہ نومبر سے پہلے کسی صورت نئے انتخابات نہیں ہوسکتے اورکسی بھی صورت ان کے ہاتھوں ان کے پسند کے نئے آرمی چیف کی تقرری کی خواہش پوری نہیں ہوسکتی تو وہ دوبارہ بلیک میلنگ پر اتر آئے ۔رپورٹ کے مطابق عمران خان نے پہلے کورکمیٹی میں اپنے ان لوگوں کو کھری کھری سنائیں جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان پر پابندی لگائی کہ وہ آئندہ کوئی بات نہیں کریں گے۔ حالانکہ ان میں پرویز خٹک جیسوں کو بھی سننا پڑیں جو خود عمران خان کے نمائندے کے طور پر جاتے تھے ۔ پھر چکوال کے جلسے میں ایک بار پھر شیرنظر آنے کی کوشش کی اور فوج اور آئی ایس آئی کو خوب سنائیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اب کی بار آئی ایس پی آر کی طرف سے ان کی دھمکیوں پر کوئی ردعمل نہیں آیا لیکن اطلاعات کے مطابق فوج کی صفوں میں غصے کی جو لہر اب دوڑ گئی ہے ، پہلے کبھی نہیں تھی ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے فوج کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے اور عمران خان مزید اس سلسلے کو کہاں تک لے جاتے ہیں۔
صدر علوی کے ذریعے عمران خان کی جنرل باجوہ سے بے سود ملاقات ، کوئی بات نہیں مانی گئی








