بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسلام آباد کی پہلی موبائل فوٹوسٹیٹ مشین

اسلام آباد( شیراز حسین)’’ہمت مرداں،مدد خدا‘‘،کاروبار میں بھاری نقصان ہونے پر مشکلات کا شکار نوجوان نے محدودوسائل کو آڑے نہ آنے دیا اور موٹرسائیکل پر فوٹو سٹیٹ کا کام شروع کردیا،محمد بشیر نے نہ صرف اسلام آباد میں پہلی موبائل فوٹو سٹیٹ مشین متعارف کرائی بلکہ وہ ایسے نوجوانوں کے لئے مثال بن گئے ہیں جومشکلات سے خائف اور حالات کا روناروتے رہتے ہیں۔
آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے محمد بشیر نے ’’ممتازنیوز‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں بتایاکہ وہ تین یاچار سال کی عمر میں والد کے ساتھ کراچی چلے گئے تھے جہاں والد نے کاروبار کا آغاز کیا جو خوب چلا اور وقت گزرنے کے ساتھ کاروبار بڑھتا گیا ۔ محمد بشیر کے مطابق والد کے انتقال کے بعد اس نے 20 سال تک کاروبار سنبھالے رکھا لیکن ایک دن ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں نے اسے ٹانگ پر گولی مار دی اور پھر ڈاکٹروں کی نااہلی کی وجہ سےاس کی ٹانگ ضائع ہوگئی۔ محمد بشیر نے بتایاکہ اس کے معذور ہونے پر دوسرے بھائی کاروبار چلا نہ سکے اور آہستہ آہستہ سارا کاروبار تباہ ہوگیا اور وہ شدیدمالی مشکلات کا شکار ہوگئے ۔بشیر کہنا ہے کہ اس کے بچے ابھی چھوٹے ہیں اور کراچی شہر میں چونکہ وارداتیں اور لڑائی جھگڑے کے واقعات معمول ہیں اس لئے ڈر تھا کہ کہیں اس کے بچے بھی اس کا شکار نہ ہو جائے اور مستقبل میںان کے ہاتھوں میں قلم کی جگہ پستول نہ ہو چنانچہ اس نے کراچی کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کیااور چار سال قبل اپنے بیوی بچوں لےکر اسلام آباد آگیا ۔
محمد بشیر ایک دن میں میںاسلام آباد کے کاروباری مرکز بلیو ائیریا میں واقع نادرا آفس آیاجہا ں آفس کے باہر میں نے ایک فوٹو کاپی دس روپے میں کروائی اسی دوران مجھے خیال آیا کہ اگر میں یہ کام شروع کروں تو کافی منافع ہو سکتا ہے ، ٹانگ کی معذوری کی وجہ سے کوئی دوسرا کام کر بھی نہیں سکتا تھا اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ فوٹوکاپی کا کام ہی شروع کروں گا ۔محمدبشیر کے مطابق میں نے یہاں فوٹو کاپی کا کام کرنے والے کچھ لوگوں سے درخواست کی کہ مجھے یہ کام سیکھاؤلیکن کسی نے میری مدد نہیں کی تاہم میں نے ہمت نہیں ہاری اور پندر ،بیس دن نادراآفس کے باہر آتا رہا اور دیکھتا رہا کہ یہ لوگ کس طرح کام کر رہے ہیں؟ اس کے بعد میں نے سارا سامان لیا اور موٹر سائیکل کے اوپر رکھ کر نادرا آفس کے باہر آگیا، یہاں پر پہلے سے فوٹو کاپی کا کام کرنے والوں نے میراساتھ لڑائی کی کہ یہ جگہ ہماری ہے اور ہم آپ کو یہاں کام کرنے نہیں دیں گے تاہم پولیس کے آنے پر انہوں نے سارا مسئلہ حل کیا اور مجھے کام کرنے کی اجازت مل گئی ۔محمد بشیر نے بتایا کہ زندگی میں سب کچھ کھونے کے بعداللہ پر یقین رکھتے ہوئے دوبارہ سے محنت شروع کردی،اب میں روزانہ پندرہ سو سے دو ہزار روپے تک کما لیتا ہوں اور بہت خوش ہوں ۔