بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

  پی ٹی آئی کی ’’اوورہالنگ‘‘ ، عمران خان نے فصلی بٹیروں کو نظرانداز کرکے ماضی کے سینئر رہنماؤں پر 10رکنی مشاورتی کونسل بنادی

اسلام آباد (ممتازنیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارٹی کی ’’اوورہالنگ‘‘ شروع کردی،ماضی میںپارٹی پالیسیوں ودیگرمعاملات پر اختلافات کے باعث غیرفعال رہنے والے رہنمامشاورتی عمل میں شامل ،حامد خان کی سربراہی میں قائم کی گئی 10 رکنی ایڈوائزری کونسل میں نجیب ہارون، خالد مسعود،جمال انصاری ،تسنیم نورانی ، ارشد داد ، سلیم جان اور بختیار قصوری کو بھی شامل کیا گیا ہے جن کے بارے میں خود عمران خان نے تحریری طورپر الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا تھا کہ یہ پی ٹی آئی کے نام پر بے نامی اکاؤنٹس چلاتے رہےجن میں کروڑوں روپے کی رقم آئی تھی اور اِن اکاؤنٹس سے پی ٹی آئی نے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا تھاجبکہ بختیار قصوری سابق وزیرخارجہ بیرسٹر خورشید محمودقصوری کے بھائی ہیں اور انہوں نے ضمنی الیکشن میں ن لیگ کے امیدوار کی حمایت کی تھی ۔  اتوار کو عمران خان کے دستخطوں سےجاری کئے گئے اعلامیے کے مطابق ایڈوائزری کونسل کے ارکان میں رؤ ف حسن، نجیب ہارون، ارشد داد ، جمال انصاری، خالد مسعود، سلیم جان ، یعقوب اظہار، تسنیم نورانی اور بختیار قصوری شامل ہیں۔ اعلامیے کے مطابق ایڈوائزری کونسل اہم قومی ایشوز پر پارٹی چیئرمین کو اپنی رائے اور سفارشات پیش کرے گی۔ حامد خان ملک کے معروف قانون دان، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور پی ٹی آئی کے بانی رہنما ہیں۔ حامد خان نے عمران خان سے سیاسی اختلافات اور مختلف ناپسندیدہ افراد کی پارٹی میں شمولیت پر شدید ناراضگی کا اظہارکیا تھا اور ماضی میں وہ پارٹی پر کئی سنگین الزامات بھی عائد کرچکے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کی جماعت بن چکی ہے اور اپنے بنیادی نظریے اور اغراض ومقاصد سے ہٹ چکی ہے۔ ساتھ ساتھ ہی انہوں نے جہانگیر ترین،علیم خان پربھی سنگین الزامات لگائے کہ یہ پارٹی پر قبضہ کرنے کے لئے آئے تھے۔ ذرائع کے مطابق حامد خان کی پی ٹی آئی میں واپسی میں پی ٹی آئی کے سینئر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے پُل کا کردار ادا کیا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ حامد خان کی واپسی کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ عمران خان فواد چوہدری، پرویز خٹک اور اسدعمر کو پارٹی سے نکال دیں گے۔ حامد خان اپنی کتاب میں فواد چوہدری کو ٹاؤٹ قرار دے چکے ہیں اور ایک پروگرام میں سوال پوچھنے پر اس کی تصدیق بھی کرچکے ہیں۔ روف حسن بھی پارٹی کے دیرینہ اور عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ روف حسن نے شوکت خانم کے لئے میڈیا کمپین بھی کی تھی۔ وہ پارٹی کے انتخابات میں الیکشن کمشنر حامد خان کے ساتھ سیکریٹری الیکشن کمشنر کے طورپر بھی کام کرچکے ہیں۔ انجینئر نجیب ہارون بھی پارٹی کے دیرینہ رہنما ہیں ۔ وہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کراچی سے ایم این اے بھی منتخب ہوئے۔ عمران خان نے فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر جن پارٹی رہنماؤں پر غیرقانونی طورپر پارٹی اکاونٹ کھولنے اور چلانے کا الزام لگایا ہے، اُن میں نجیب ہارون بھی شامل ہیں۔ ارشد داد پارٹی کے دیرینہ رہنما ہیں، وہ قبل ازیں پارٹی کے سیکریٹری جنرل بھی رہ چکے ہیں۔ ارشد داد جب بیرون ملک گئے ہوئے تھے تو اس دوران عمران خان نے بغیر مشاورت اور یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے انہیں سیکریٹری جنرل کے عہدے سے برطرف کردیا تھا۔ خالد مسعود پارٹی کے اندر ’جے سوریا‘ کے نام سے مشہور ہیں وہ 2011 میں پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔ پارٹی نے 2013کے الیکشن میںپشاور سے قومی اسمبلی کی نشست پرپہلے انہیں پارٹی ٹکٹ دیا لیکن بعدازاں آخری وقت پرٹکٹ واپس لے لیا۔ بعدازاں خالد مسعود کو خیبرپختونخوا پی ٹی آئی کا سیکریٹری جنرل بنایاگیا۔ سینٹ کے الیکشن کے وقت پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر انہوں نے پارٹی پر سنگین الزامات لگائے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے خالد مسعود پر مالی خوردبورد کے الزامات لگا کرپارٹی سے نکال دیاگیا تھا۔ اُن پر یہ بھی الزام لگایاگیا تھا کہ انہوں نے اسلام آباد میں واقع کے پی کے ہاؤس میں رہائش رکھی اور بل ادا نہیں کیا۔ پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی نے خالد مسعود پر سنگین ترین مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کئے تھے۔ خالد مسعود خان بھی ان پی ٹی آئی رہنماؤں میں شامل ہیں جن کے خلاف عمران خان نے الیکشن کمشن کو تحریری طور پر لکھ کر دیا کہ انہوں نے غیرقانونی طورپر پارٹی کے اکاؤنٹس چلائے۔ سلیم جان کا تعلق چارسدہ سے ہے اور وہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی کے قریبی عزیز ہیں۔ پنجاب بینک کے سابق صدربھی رہ چکے ہیں۔ کئی سال سے پارٹی سے ناراض تھے کیونکہ انہیں نظرانداز کرکے دیگر افراد کو پارٹی انتخابی ٹکٹ دئیے گئے تھے۔ یعقوب اظہار کا تعلق ایک ممتاز کاروباری خاندان سے ہے۔ ان کے والد نے تعمیراتی کمپنی اظہار کے نام سے بنائی تھی۔ تسنیم نورانی سابق سیکریٹری داخلہ ہیں۔ وہ پی ٹی آئی کے پارٹی انتخابات میں چیف الیکشن کمشنر بھی رہ چکے ہیں۔ عمران خان کی طرف سے اپنی مرضی کے الیکشن کرانے کے مبینہ الزامات پر وہ مستعفی ہوگئے تھے۔ تسنیم نورانی اور یعقوب اظہار نے 2012کے پی ٹی آئی کے پارٹی انتخابات میں سنگین بے ضابطگیوں اوردھاندلی پرجائزہ کمشن کی رپورٹ بھی مرتب کی تھی ۔ رپورٹ میں کہاگیا تھا کہ پی ٹی آئی کے پارٹی انتخابات میں کھلم کھلا پیسہ چلا اور پارٹی میں انتخابی ٹکٹس کی تقسیم مچھلی بازار کا منظر پیش کررہی تھی۔ تسنیم نورانی پر بھی پی ٹی آئی کے خفیہ پارٹی اکاؤنٹس چلانے کا الزام ہے۔کراچی سے تعلق رکھنے والے جمال انصاری بھی ماضی میں عمران خان کے قریبی ساتھ رہے اوران کا نام بھی عمران خان نے بے نامی اکاؤنٹس چلانے والوں میں لیا تھا۔