مالاکنڈ (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں فیصلہ کن وقت آگیا ہے، جو ارکان غلطی کر بیٹھے ہیں،واپس آجائیں، میں انہیں معاف کردوں گا،ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائےگی،عوام کا پیسہ چوری کرکے حکومت بچانے سے بہتر ہے کہ میری حکومت چلی جائے، پیسے دے کر، رشوت دیکر اپنی حکومت بچانے پر لعنت بھیجتا ہوں۔
ضلع مالاکنڈ کے علاقے درگئی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مخالف تین غلاموں نے بڑی سازش کرکے، بیرونی آقاؤں کی منت سماجت کر کے، پاؤں پکڑ کر، جوتے پالش کرکے انہیں یقین دلایا کہ ہم آپ کے غلام ہیں، عمران خان آپ کی بات نہیں مانے گا ہم آپ کے غلام ہیں، ہم آپ کی تابعداری کریں گے لیکن میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ غلام سن لیں کہ آپ لوگ شکست سے دوچار ہو گے، ہم اس سیاسی معرکے میں بھی کامیاب ہوں گے۔
انہوں نے ناراض اراکین اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے ساتھ وہ کرنا چاہتے ہیں جو دشمن بھی نہیں کرسکتا، معاشرہ جنگ ہارنے سے نہیں، اخلاقیات تباہ ہونے سے ختم ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے اچھائی کا ساتھ دو اور برائی کیخلاف جہاد کرو، یہ لوگوں کے چوری کے پیسے سے لوگوں کے ضمیر خرید رہے ہیں، قوم کی جب اخلاقیات ختم ہوجائے تو وہ محنت کرنا چھوڑ دیتی ہے، میرے کچھ ایم این ایز غلطی کر بیٹھے ہیں، پارٹی کا سربراہ باپ کی طرح ہوتا ہے، چھانگا مانگا کے دن چلے گئے ہیں، یہ وہ پاکستان ہے جس کے عوام میں شعور آچکا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ اب قوم کے بچے بچے کو ایم این ایز کے نام پتہ چل چکے ہیں، انہیں پتہ ہے کہ آپ نے پارٹی کو چھوڑا تو وہ پیسے کی وجہ سے چھوڑا، آپ جتنا بھی کہیں پیسے نہیں لیے ضمیر جاگے لیکن کوئی آپ کی بات نہیں مانے گا، لوگ صرف یہی سمجھیں گے کہ آپ نے اپنے ضمیر کو بیچا ہے، ہمیشہ کیلئے ایم این ایز کے نام کے ساتھ ضمیر فروش لکھ دیا جائے گا، ایم این ایز چاہے جو بھی کہیں لوگ یہی کہیں گے کہ انہوں نے پیسے لیے، میرے جو ایم این ایز غلطی کر بیٹھے ہیں، میں آپ کو معاف کردوں گا، واپس آجائیں۔ اگر میں نے ضمیر کا سودا کرکے رشوت دینی ہے تو میں ایسی حکومت پر لعنت بھیجتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ درگئی کے عوام اور نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، عوام اس پارٹی کا ساتھ دیں گے جو پاکستان کیلئے کھڑی ہے، امید ہے بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کامیاب ہوگی، درگئی کے نوجوان تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں، قوموں کی زندگی میں کبھی کبھی فیصلہ کن وقت آتاہے، پاکستان کے بڑے بڑے ڈاکو اکٹھے ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف پاکستان کے بڑے بڑے ڈاکو اکٹھے ہوگئے ہیں، دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے 25سال ڈاکووں کیخلاف جدوجہد کی، ملک میں فیصلہ کن وقت آگیا ہے، ڈاکووں نے چوری کے پیسے سے ہمارے ایم این ایز کی قیمت لگائی ہے، ضمیر فروش اور لوٹے میں فرق ہوتا ہے، لوٹا اقتدار کی طرف چلاتا ہے اور ضمیر فروش اپنا اور ملک کا سودا کرتا ہے، اس وقت یہ لوٹے نہیں ہورہے یہ اپنے ضمیر کا سودا کر رہے ہیں، لوٹا اقتدار کی طرف جاتا ہےاور ضمیر فروش اپنا اور ملک کا سودا کرتا ہے، عدلیہ اور الیکشن کمیشن ضمیر فروشوں کو دیکھ رہی ہے۔عمران خان نے کہا کہ ساری قوم کے سامنے ضمیروں کا سودا ہو رہا ہے اور اسے جمہوریت کا نام دیا جا رہا ہے، ہم نے برطانیہ سے جمہوریت کا نظام لیا ہے، 20سے 25 سال میں سنا ہی نہیں برطانیہ کا ممبر پارلیمنٹ ضمیر کا سودا کرے، اب وہ وقت آگیا ہے کہ فیصلہ کرنا ہے کہ کس طرف کھڑا ہونا ہے، اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اچھائی کا ساتھ دو اور برائی کیخلاف ہو، اللہ تعالیٰ نے ہمیں نیوٹرل ہونے کا نہیں کہا، سندھ ہاوس میں پیسے دے کر جمہوریت کا جنازہ نکالا جارہا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ن لیگ نے تو آصف زرداری کو چوری پر 2بار جیل میں ڈالا، ن لیگ نے سابق صدر پر کرپشن کے کیسز بنائے ، پیپلزپارٹی نے تو نوازشریف پر چوری کے کیس بنائے، حدیبیہ پیپر ملز کا کیس تو پیپلزپارٹی نے نوازشریف پر بنایا، فضل الرحمان کو ڈیزل کا خطاب تو ن لیگ نے دیا تھا۔ ن لیگ کے ایک رنگ باز نے فضل الرحمان کو ڈیزل کا خطاب دیا، مولانا پر نیب کا کیس تو مسلم لیگ ن کے دور میں بنے تھا، ہمارا دین کہتا ہے ماں ،باپ کی عزت کرو، ماں ، باپ کا پیار ہمیشہ بے لوث ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے صدر نے مجھے تجویز دی ہے آپ کو ایبسلوٹلی ناٹ نہیں کہنا چاہیے تھا، شہبازشریف کہتے ہیں یورپی یونین پر تنقید نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اپوزیشن لیڈر کو بتانا چاہتا ہوں انٹرویو کے دوران مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ افغانستان کیخلاف پاکستان اڈے دے گا، اس پر ایبسلوٹلی ناٹ کہا تھا، امریکی جنگ میں 100ارب ڈالر سے زیادہ ملک کو نقصان ہوا، امریکا سے کہا ہے امن میں آپ کے ساتھ ہیں لیکن جنگ میں نہیں۔ میں کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا، کسی سفیر کو حق نہیں پہنچتا ملک کی خارجہ پالیسی پر پبلک میں بات کرے۔ یورپی سفیر نے پروٹوکول کے خلاف بات کی۔ عمران خان نے کہا کہ میں نے یورپی یونین کے سفیر سے پوچھا کیا بھارت کیخلاف یہ بات کرو گے، روس اور یوکرین جنگ پر ہندوستان کی تعریف کرتا ہوں انہوں نے فارن پالیسی پر عوام کی خواہش پر بنائی اور نیوٹرل رہے، ماسکو پر پابندی کے باوجود مودی سرکار نے ان سے تیل خریدا۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ ملک کبھی بھی غلام بن کر آگے نہیں بڑھ سکتا، ملک تب ہی آگے بڑھے گا جب ہم اپنے پاوں پر کھڑے ہوں گے ، لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ نے ساڑھے تین سال میں کیا کیا؟ کبھی کسی حکومت نے ساڑھے تین سال میں وہ کام نہیں کیے جو ہم نے کیے ہیں، یہ پیسے کی پوجا کرنے والے لوگ ہیں، یہ ملک غلام بن کر آگے نہیں بڑھ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے قرار داد پاس کی کہ ہر سال 15مارچ کو اسلاموفوبیا کیخلاف دن منایا جائے گا، فضل الرحمان نے 30سال میں کبھی ایک بار بھی اسلامو فوبیا کیخلاف بات کی، ان کے منہ سے کبھی اسلام کا نام بھی نہیں نکلا، ہم نے دنیا میں مسلمانوں کا کیس لڑا اور کامیاب ہوئے، کورونا کے دوران اپنے لوگوں اور معیشت کو بچایا، اب دنیا ہماری مثال دے رہے ہیں، پاکستان اپنے پاوں پر تب کھڑا ہوگا جب ہماری آمدن میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نےکہا کہ دنیا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اوپرگئیں ،ہم نے دس روپے فی لیٹرکم کی، ہمارا پیٹرول آج دبئی سے سستا ہے ، پانچ روپے فی یونٹ بجلی سستی کی، 10 روپے پیٹرول اور فضل الرحمان کو کم کیا، کسی حکومت نے وہ کام نہیں کئے جو ہم نے کیے۔ انہوں نے ریکوڈک کیس میں پاکستانی کامیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریکوڈک میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی، غیر ملکی کمپنی پاکستان میں نو ارب ڈالر سرمایہ کاری کرنے جارہی ہے، بلوچستان کے لیے یہ زیادہ خوش خبر ہے جبکہ پاکستان کا فائدہ یہ ہے کہ اسے ڈالر ملیں گے جس کے لیے ہمیں بار بار آئی ایم ایف جانا پڑتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ قوم کو خوش خبری دینا چاہتا ہوں کہ جس طرح کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے سے پہلے میں نے کہا تھا کہ ہم جیتیں گے اسی طرح آج قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ تحریک عدم اعتماد کے مقابلے میں بھی ہماری کامیابی ہوگی۔
عدم اعتماد بیرونی سازش ، جو ارکان غلطی کر بیٹھے ، واپس آ جائیں، معاف کر دوں گا، وزیراعظم








