لاہور: سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب انیس علی ہاشمی نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کے خلاف سربراہ تحریک انصاف عمران خان کو تحقیقات کی استدعا کر دی۔انیس علی ہاشمی نے کہا ہے کہ 1996 سے تحریک انصاف سے وابستہ ہوں، این اے 122 میں ایاز صادق کے خلاف عمران خان کا کیس لڑا، این اے 122 کا کیس ہارنے کیلئے ہر طرح کی مالی و دیگر پرکشش پیشکش کی گئی مگر نہیں بکا۔این اے 122 کیس کا فیصلہ عمران خان کے حق میں حاص کیا، اسی دوران احمد اویس لاہور وسے حکم امتناعی حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔انہوںنے مزید کہاہے کہ 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت نے احمد اویس کو ایڈووکیٹ جنرل تعینات کیا۔احمد اویس روڈا، سانحہ ماڈل کی نئی جے آئی ٹی سمیت کای بھی کیس میں ریلیف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔احمد اویس نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا دفتر اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا۔احمد اویس نے اپنے جونیئر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے ذریعے نائب قاصد سمیت دیگر نوکریاں بیچیں۔انہوںنے کہا کہ میں نے بطور اپائنٹنگ کمیٹی ممبر کے تمام نااہل امیدواروں کو فیل کر دیا، مگر تمام نااہل امیدواروں کو منتخب کر لیا گیا۔ذرائع سے میرے علم میں آیا کہ نائب قاصد سمیت دیگر ملازمین کی تقرری کیلئے جعلی دستخط استعمال کیے گئے۔ انیس علی ہاشمی نے کہاہے کہ میرے شہرت کو نقصان پہنچانے کیلئے احمد اویس نے عمران خان کو 23لاکھ کے فرنیچر کی خریداری میں کرپشن کی جعلی کہانی سنائی۔جعلی فرنیچر کیلئے ایسے شخص کا انتخاب کیا گیا جو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب دفتر کا وینڈر ہی نہیں ہے۔عمران خان اس معاملے کی شفاف تحقیقات کریں، پارٹی سے وفاداری کی سزا مت دی جائے۔
عمران خان سے تحقیقات کا مطالبہ،پاکستان تحریک انصاف کے وکلاء میں اختلافات سامنے آ گئے








