اسلام آباد(ممتازنیوز) وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آڈیو لیکس کے معاملے پر تحقیقات کیلئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دے دی گئی۔
بدھ کو ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزارت داخلہ، خارجہ ، خزانہ، اطلاعات کے وزراء چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف، تینوں سروسز چیف ، ڈی جی آئی ایس آئی اور آئی بی کے سربراہ بھی شرکت ہوئے ،اجلاس میں آڈیو لیکس سمیت قومی سلامتی سے متعلق امور زیر غور آئے ۔اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس نے آڈیو لیکس کے معاملے پر غور کیا اور حساس اداروں کے سربراہان کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس اور اہم مقامات کی سکیورٹی پر بریفنگ دی گئی۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سائبراسپیس اور اس سے متعلقہ دیگر پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیرگردش آڈیوز کے معاملے پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کی سکیورٹی سے متعلق بعض پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی اور ان کے تدارک کیلئے فول پروف انتظامات سے متعلق بتایاگیا۔
اجلاس کو بتایاگیا کہ سائبر سکیورٹی کے حوالے سے کوئی فریم ورک موجود نہیں جس پر کمیٹی نے مشاورت کے بعد سائبرسکیورٹی سے متعلق’ لیگل فریم ورک‘ کی تیاری کا فیصلہ کیا ہے اور وزارت قانون وانصاف کو سائبرسکیورٹی سے متعلق لیگل فریم ورک کی تیاری کی ہدایت کی گئی ہے۔
کمیٹی نے آڈیو لیکس کے معاملے پر تحقیقات کیلئے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری بھی دی ہے جس کے سربراہ وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ ہوں گے۔
قومی سلامتی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سائبر اسپیس کے پیش نظر سکیورٹی، سیفٹی اور سرکاری کمیونیکیشنز محفوظ بنانے کا جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں یہ ہدایت بھی کی گئی کہ سائبر سکیورٹی یقینی بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال بھی یقینی بنایا جائے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کی گزشتہ دنوں آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد پی ایم ہاؤس کی سکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔
سائبر سکیورٹی لیکس ،تحقیقات کے لئے راناثنااللہ سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ








