بینک دولت پاکستان نے پاکستان کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر 75 روپے مالیت کا ایک یادگاری بینک نوٹ جاری کرنے کا اعلان کیا تھا جو اب عوام کے لیے دستیاب ہے۔
اس یادگار کرنسی نوٹ کے ڈیزائن کی نقاب کشائی 14 اگست 2022ء کو اسٹیٹ بینک ہیڈکوارٹرز کراچی میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں کی گئی تھی۔
ایک بیان جاری کرتے ہوئے بینک نے بتایا کہ یہ یادگار کرنسی نوٹ آج سے عوام کے لیے ایس بی پی بی ایس سی کے دفاتر اور کمرشل بینکوں کی برانچوں سے دستیاب ہو گا۔
بیان کے مطابق اس یادگاری نوٹ کو ایس بی پی ایکٹ 1956 کی شق 25 کے تحت لیگل ٹینڈر کی حیثیت حاصل ہے اور اسے پاکستان بھر میں کاروباری لین دین میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کیا جانے والا دوسرا یادگاری بینک نوٹ ہے۔
قبل ازیں اسٹیٹ بینک نے 1997 میں ملک کی آزادی کے 50 برس مکمل ہونے پر پہلا یادگاری نوٹ جاری کیا تھا۔
1/2 #SBP has issued a commemorative banknote of Rs75 on the occasion of 75th anniversary of Pakistan’s independence. The commemorative banknote will be available for general public from SBP BSC offices & Commercial Banks’s branches from 30Sep22.
See PR: https://t.co/UgLboiQDqZ pic.twitter.com/8g7rtFfSkP— SBP (@StateBank_Pak) September 29, 2022
اس کرنسی نوٹ کے سامنے کے اور پچھلے رخ کے موضوعات اور تصورات کو اسٹیٹ بینک اور مقامی فنکاروں نے تیار کیا ہے۔
اس یادگار کرنسی نوٹ کو پاکستان کے قیام میں اہم کردار ادا کرنے والے قائدین کو خراج تحسین پیش کرنے اور موسمی تبدیلی اور ہمارے ماحول پر اس کے اثرات کے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یادگار کرنسی نوٹ کے سامنے کا رخ قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، محترمہ فاطمہ جناح اور سرسید احمد خان کی تصاویر سے مزین ہے
اس یادگاری کرنسی نوٹ کا پچھلا رخ ماحولیاتی تبدیلی اور پاکستان پر اس کے اثرات سے ہماری قومی وابستگی کو اجاگر کرتے ہیں، بینک کے مطابق حالیہ شدید بارشوں اور پاکستان کے بڑے حصے پر سیلاب سے ہونے والے غیر معمولی نقصانات کی روشنی میں اس پر ہنگامی توجہ دینا ضروری ہو گیا ہے۔
کرنسی نوٹ کی پشت پر قومی جانور مارخور اور قومی درخت دیودار کی تصاویر بھی ایسی انواع کی معدومی کے خطرات اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔









