اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے جنرل سیکرٹری ثناء اللہ گھمن نے کہاہے کہ پٹرولیم مصنوعات اورزرعی اجناس پرٹیکس لگانے سے عام آدمی متاثر ہوگاجبکہ میٹھے مشروبات پرٹیکس سے نہ صرف حکو مت کو ریوینیو حاصل ہو گابلکہ اس سے بیماریوں کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی، ہیلتھ کنٹری بیوشن بل اپریل 2022 سے کابینہ میں تعطل کا شکارہے اوراس کی منظوری سے پاکستان کی معیشت کوسہارامل سکتا ہے، بیماریوں کے بوجھ کوکم کیا جا سکتا ہےاورصحت اورغذائیت کے پروگراموں کوفنڈ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔وہ یہاں کی مقامی ہوٹل میں ورکشاپ کے دوران سینئر صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے ۔ورکشاپ کی میزبانی ثناء اللہ گھمن نے کی۔مہمانوں میں گلوبل ہیلتھ ایڈووکیسی انکیوبیٹرکے کنسلٹنٹ فوڈپالیسی پروگرام منور حسین بھی موجود تھے۔ اپنے خطاب ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ مشروبات کی صنعت ہرقدم پرپالیسی سازوں کو گمراہ کررہی ہے اورپالیسی کےعمل میں رکاوٹیں کھڑی کررہی ہے،یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کی جانب سے پیش کردہ ہیلتھ کنٹری بیوشن بل کابینہ میں التوا کا شکار ہے۔
قبل ازیں یہ بل ایف بی آر میں رک گیاتھا اور پناہ نے2020 میں محتسب کو بل کی بحالی کیلئے درخواست دائر کی اوراسے کامیابی ملی، تاہم مشروبات اور تمباکو کی صنعت اپنے کارپوریٹ مفاد کی وجہ سے ہرقدم پراس بل کو روکنے کی کوشش کررہی ہے اورانہیں عوام کی صحت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
گلوبل ہیلتھ ایڈووکیسی انکیوبیٹر کے کنسلٹنٹ فوڈ پالیسی پروگرام منورحسین نے کہا کہ ہیلتھ کنٹری بیوشن بل کی منظوری حکومت پاکستان کیلئےصحت اورغذائیت کے پروگراموں کوفنڈ دینےکیلئے آمدنی حاصل کرنے کابہترین موقع ہے،اس بل سے سالانہ 55 ارب سے زائد کا ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہےاور شکر والے مشروبات اورتمباکو کے استعمال میں کمی کےباعث بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں بھی مدد ملےگی۔
انہوں نے کہا کہ چینی والے مشروبات کا زیادہ استعمال ملکی معیشت کیلئےبڑھتاہواخطرہ ہے، 2015 میں موٹاپے کے علاج پر ہونے والی لاگت کے کا تخمینہ 428 ارب روپے تھا۔اسی طرح انٹرنیشنل ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق 2021 میں پاکستان میں ذیابیطس کے انتظام کی سالانہ لاگت 2640 ملین امریکی ڈالر تک بڑھ گئی ہے، انہوں نے وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور وزیر صحت پاکستان سے مداخلت کرنے کی درخواست کی اس لائف سیونگ ہیلتھ کنٹری بیوشن بل کی جلد سے جلد منظوری کیلئے اتفاق رائے پیدا کریں۔
اس موقع سینئرصحافیوں نے اس بات سے مکمل اتفاق کیاکہ پٹرولیم مصنوعات اورزرعی اجناس پرٹیکس پورے ملک کومتاثر کرےگا،اس وقت سیلات کی وجہ سے ملک ایک بہت بڑی آفت کا شکار ہے،زراعت کا شعبہ بری طرح متاثر ہو چکا ہے،ایسے میں فنڈز کی کمی کو پورا کرنے کیلئے میٹھے مشروبات جیسی چیزوں پر ٹیکس سے ووہرا فائدہ ہے، یعنی حکومت کے ریونیو میں اضافہ اور بیماریوں میں کمی،صحافیوں نے یقین دہانی کروائی کہ وہ پناہ کی اس آوازکا حصہ بنیں گےاورحکومت تک یہ آواز پہنچانے میں پناہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔










