بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وادی کیلاش کی معمر ترین خاتون انتقال کر گئیں

چترال(ممتازنیوز) خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں ہزاروں سال قدیم تہذیب سے تعلق رکھنے والا کیلاش قبیلہ آباد ہے جو اپنی منفرد ثقافت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
کیلاش قبیلے میں بسنے والے زیادہ تر افراد کی عمر زیادہ ہوتی ہے مگر اس گاؤں میں رہنے والی سب سے عمررسیدہ خاتون سنگیرائے بی بی تھیں جو گزشتہ شب انتقال کر گئیں۔ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ سنگیرائے بی بی کی عمر 120 برس سے زیادہ تھی۔
سنگیرائے کیلاش کی وادی رمبور سے تعلق رکھنے والی مشہور خاتون تھیں جنہیں سب نانی کہتے تھے۔ سنگیرائے خاتون اپنے اچھے اخلاق اور فلاحی کاموں کی وجہ سے مشہور تھیں۔
کیلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے خیبرپختونخوا کے رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کا کہنا ہے کہ سنگیرائے بی بی کی عمر 120 سال سے زیادہ ہو گی۔ وہ ایک متحرک خاتون تھیں۔ اس عمر میں بھی ان کی نظر اور حافظہ جوانوں سے بہتر تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’سنگیرائے ہمارے قبیلے کی معتبر خاتون تھیں۔ انہوں نے کیلاش کلچر کے فروغ کے لیے بہت خدمت کی۔ مذہب اور ثقافت سے متعلق کئی معاملات میں ہم ان سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔‘
ایم پی اے وزیر زادہ نے بتایا کہ سنگیرائے بی بی کے شوہر سب سے پہلے کیلاشا ثقافتی گھروں کے انجینئر تھے۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کئی گھروں کی تعمیر کی۔
قبیلے کے مقامی باشندے عجب کالاش کے مطابق سنگیرائے کے سات بیٹے اور 2 بیٹیاں تھیں۔ بڑی بیٹی پرچم بی بی کی عمر 90 برس سے زائد ہے جبکہ بیٹا ریٹائرڈ حوالدار ہے۔
عجب کالاش نے بتایا کہ سنگیرائے بی بی دست کاری میں مہارت رکھتی تھیں۔ ان کے پاس کیلاش کلچر اور مذہب کے بارے میں بہت معلومات تھیں۔
عجب کالاش نے بتایا کہ سنگیرائے بی بی کی دادی ریڈ کیلاشا مذہب سے تعلق رکھتی تھی جو کہ افغانستان کے بارڈر کے اس پار آباد تھے۔

پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جمیل چترالی کے مطابق کیلاشی خاتون کا 120 سال کا ہونا ایک دعویٰ ہے جس کی تصدیق بہت ضروری ہے ۔ یہ بات درست ہے کہ کیلاش کے لوگوں کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں مگر ان کی اولاد کم ہوتی ہے۔
ڈاکٹر جمیل چترالی نے بتایا کہ ہماری تحقیق کے مطابق کالام کا ایک شخص 110 سال کی عمر میں وفات پایا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ سنگیرائے خاتون کی درست عمر کی تصدیق اس بات سے ہوسکتی کہ ان کو کون سے واقعات یاد تھے یا پھر ان کی اولاد کی عمر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔