اسلام آباد(ممتاز نیوز) روانڈا کے شہر کیگالی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان کا پارلیمانی وفد جو بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی 145ویں جنرل اسمبلی اجلاس میں جو 11 سے 15 اکتوبر 2022 کو منعقد ہو رہی ہے میں شرکت کے لیے روانڈا کے دورے پر ہے نے پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب سے عالمی موسمیاتی فنڈ کے قیام کے لیے بھیجی گئی قرارداد کو ہنگامی ایجنڈا کے طور پر شامل کرنے کے لیے آئی پی یو کے رکن ممالک سے حمایت حاصل کرنے کے لیے مختلف اجلاسوں میں شرکت کی۔
آئی پی یو کی 145 ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پاکستان کی قومی اسمبلی نے جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ایمرجنسی ایجنڈا آئٹم کے ذریعے قراداد کی منظوری کے لیے سیکرٹری جنرل آئی پی یو کو خط ارسال کر رکھا ہے۔ خط میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ ہونے تباہ کاریوں کے ازالے کے لیے عالمی فنڈ کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے دو چار ترقی پزیر ممالک کی دادرسی کی جا سکے۔
اسپیکرقومی اسمبلی آف پاکستان راجہ پرویز اشرف نے اس سلسلے میں پاکستان میں تعینات تمام غیر ملکی سفارتکاروں سے ملاقاتیں کیں انہیں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات سے آگاہ کیا اور آئی پی یو جنرل اسمبلی اجلاس میں پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب عالمی فنڈ کے قیام کے لیے پیش بھیجی جانے والی قرارداد کی حمایت کے لیے کہا۔
کیگالی میں موجود پاکستان کے پارلیمانی وفد نے عالمی فنڈ کے قیام کے لیے پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب سے بھیجی جانے والی قرارداد جو اسپیکر قومی اسمبلی کی کاوشوں سے آئی پی یو جنرل اسمبلی اجلاس میں ایمرجنسی ایجنڈا آئٹم کے طور پر شامل کی جا جائے گئی۔اس قرارداد پر حمایت حاصل کرنے کے لیے آئی پی یو کے مختلف گروپس سے ملاقاتیں کیں ہیں۔ وفد نے آئی پی یو کے جن گروپس سے ملاقاتیں کیں ہیں ان میں افریقی گروپ، عرب گروپ، ایشیا پیسیفک گروپ، یوریشیا گروپ، گروپ آف امریکہ اور کیریبین اور بارہ پلس گروپ شامل ہیں۔ ملاقاتوں میں ان آئی پی یو کے ان جیو پولیٹیکل گروپس نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا پاکستان کی جانب سے تجویز کردہ ہنگامی آئٹم پاکستان پر اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا، علاوہ ازیں وفد کے اراکین نے او آئی سی ممبر ممالک کی پارلیمانی یونین (پی یو آئی سی) اور ایشیائی پارلیمانی اسمبلی (اے پی اے) کے ساتھ کیں۔ان ملاقاتوں میں پی یو آئی سی اور (اے پی اے) کے رکن ممالک نے بھی پاکستان کے ہنگامی آئٹم کی تجویز کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔
پاکستان کے وفد نے کینیڈا اور قطر کے وفود سے بھی ملاقاتیں کیں اور پاکستان کی طرف سے تجویز کردہ ہنگامی آئٹم کے حوالے سے ان کی حمایت کے لیے کہا۔ ملاقاتوں کے دوران ان ممالک کے وفود نے وفود نے نہ صرف قیمتی جانوں اور اہم انفراسٹرکچر کے نقصان پر اظہار تعزیت کیا بلکہ پاکستان کی جانب پیش کردہ ایمرجنسی ایجنڈا آئٹم کے ذریعے قرارداد کی منظوری پر اپنے مکمل تعاون کا یقین بھی دلایا۔
پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب سے بھیجی جانے والی قرارداد کو آئی پی یو کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایمرجنسی آئٹم کے طور پر شامل کرنے کا فیصلہ 145 ویں جنرل اسمبلی کی گورننگ کونسل کے 12 اکتوبر 2022 کو ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا۔
آئی پی یو کی 145 ویں جنرل اسمبلی اجلاس میں قومی اسمبلی کی جانب سے شرکت کرنے والے وفد میں وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت اور سماجی تحفظ کی وزیر محترمہ شازیہ مری، ممبران قومی اسمبلی محترمہ وجیہ قمر اور ڈاکٹر نثار چیمہ شامل ہیں۔









