واشنگٹن : عالمی بینک نے کشن گنگا اور ریٹل ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹس کی تعمیر کے خلاف پاکستان کی شکایت پر سماعت کے لیے ایک ’غیر جانبدار ماہر‘ اور ثالثی عدالت کے چیئرمین کے تقرر کا اعلان کردیا۔
سندھ طاس معاہدہ کے تحت ان دونوں منصوبوں کے تکنیکی ڈیزائن سے متعلق پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع پایا جاتا ہے۔
عالمی بینک کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق پاکستان نے دونوں پلانٹس کے ڈیزائن کے بارے میں اپنے خدشات کا جائزہ لینے کے لیے ثالث عدالت کے قیام کا مطالبہ کیا تھا جب کہ بھارت نے دونوں پلانٹس متعلق اسی طرح کے خدشات پر غور کے لیے غیر جانبدار ماہر کے تقرر کا مطالبہ کیا تھا۔
ورلڈ بینک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مشیل لینو کو غیر جانبدار ماہر اور پروفیسر شان مرفی کو ثالث عدالت کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، یہ دونوں عہدیدار انفرادی حیثیت میں بطور ماہر آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دیں گے۔
ورلڈ بینک کی جانب سے یہ تقرریاں سندھ طاس معاہدے کے تحت اس پر عائد ذمہ داریوں کے مطابق کی ہیں۔
عالمی بینک نے اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ماہرین معاہدے کے مطابق حاصل اپنے دائرہ اختیار کے مینڈیٹ کے مطابق محتاط ہو کر منصفانہ طور پر غور کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ورلڈ بینک نے پاور پلانٹس سے متعلق دونوں ممالک کی جانب سے کی گئی درخواستوں پر کارروائی شروع کردی گئی ہے اور اس حوالے سے دونوں ممالک کو مطلع کردیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی خلوص نیت، مکمل غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ دونوں ممالک کی مدد کے لیے کام جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گا۔
واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے متنازع کشن گنگا ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے کی تصدیق کے بعد پاکستان نے2018 میں ورلڈ بینک سے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے بھارتی منصوبوں پر اسلام آباد کے تحفظات سندھ طاس معاہدہ 1960 کی روشنی میں دور کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
بھارت کشن گنگا ڈیم سے 330 میگا واٹ بجلی پیدا کرسکے گا اور اس منصوبے کی تکیمل اس دوران ہوئی جب ورلڈ بنیک نے 2016 میں پاکستان کے حق میں حکم امتناع پرمبنی فیصلہ سناتے ہوئے بھارت کو ڈیم کے ڈیزائن میں تبدیلی کا حکم دیا تھا۔
پاکستانی موقف کے مطابق کشن گنگا کی تعمیر کے نتیجے میں دریائے نیلم میں پانی کا بہاؤ بری طرح متاثر ہوگا، دریائے نیلم پر واقع 969 میگاواٹ پاکستانی منصوبہ سے بجلی کی پیداوار بھی کم ہوجائے گی۔
سندھ طاس معاہدے پر 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان عالمی بینک کے تعاون سے 9 سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد دستخط کیے گئے تھے، اس معاہدے میں ورلڈ بینک بھی ایک دستخط کنندہ ہے۔
معاہدے کے تحت مغربی سمت میں موجود دریاؤں جیسے سندھ، جہلم اور چناب کو پاکستان اور مشرقی سمت میں دریاؤں جیسے راوی، بیاس اور ستلج کو بھارت کے لیے مختص کیا گیا ہے، اس کے ساتھ ہی معاہدے کے تحت دونوں ملک ایک دوسرے کے لیے مختص دریاؤں کا کچھ مخصوص حد تک استعمال کرسکتے ہیں۔
سندھ طاس معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان دریاؤں کے استعمال کے حوالے سے باہمی تعاون اور معلومات کے تبادلے کا طریقہ کار طے کرتا ہے جسے ’پرمیننٹ انڈس کمیشن‘ بھی کہا جاتا ہے جس کی سربراہی دونوں ممالک کی جانب سے مقرر ان کے کمشنرز کرتے ہیں۔
کشن گنگا،ریٹل پاور پلانٹس کی تعمیر پر پاکستانی اعتراض کی سماعت کیلئے ثالثی عدالت کا سربراہ مقرر








