کراچی: جماعت اسلامی نے بلدیاتی الیکشن کا التواء مسترد کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔ حافظ نعیم الرحمان کہتے ہیں الیکشن کمیشن کی پوزیشن یہ نہیں کہ وہ کسی سے پوچھیں کہ الیکشن کرانے ہیں یا نہیں۔ پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کو شکست کا خوف ہے، توہین عدالت کا نوٹس لیا جائے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے الیکشن کے التواء کی حمایت کردی۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے بلدیاتی الیکشن کے التواء پر ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر جمہوریت کی نرسری پر شب خون مارا گیا، ہم نے خط لکھا کہ بتائیں کون کون سے اہلکار سندھ بھیجے ہیں کوئی ایک نام بھی نہیں آیا۔
ان کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر صاحب آپ کو آئین نے یہ اختیار دیا ہے کہ آپ پاک فوج اور ریاست کے کسی بھی ادارے کو الیکشن کیلئے استعمال کر سکتے ہیں، آپ ان سے پوچھ کیوں رہے ہیں؟، آپ کو تو انہیں آرڈر دینا چاہئے تھا، آپ کیوں حکومت کے سہولت کار بن جاتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے سندھ حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم ٹیکس دیتے ہیں ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے حکومت کا نظام چلتا ہے، امداد کے نام پر آئے پیسے بھی ہڑپ کر گئے، ان کے ٹینکوں سے بھی پیسے برآمد ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی سے پریشان ہوکر انہوں نے الیکشن ملتوی کروائے، آپ پریشان تھے کہ جماعت اسلامی آگئی تو کوئی سوال کرے گا کہ سڑکیں بنانے میں کرپشن کیوں ہوئی، انہیں معیار نہیں انہیں کرپشن چاہئے، ان سے سوال ہوگا کہ بلدیاتی اداروں کو با اختیار کیوں نہیں بنایا جارہا، کسی صورت انتخابات میں التواء قابل قبول نہیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ وزارت داخلہ اور وزارت دفاع سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیوں آپ ایک شہر میں انتخابات نہیں کروا سکتے، کیوں آرمی کو سیکیورٹی پر نہیں لگایا جاسکتا، کیوں رینجرز اہلکار پولنگ اسٹیشنز پر سیکورٹی نہیں دے سکتا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر انتخابات نہیں کروا سکتے تو استعفیٰ دیں اور کسی اہل آدمی کو آنے دیں، پہلے مردم شماری کو مؤخر کیا گیا، کراچی کے لوگوں کا مسئلہ ہے اس لئے کوئی نہیں بولتا، یہ سب ملے ہوئے ہیں، کراچی دشمنی میں سب ایک ہیں، اکیلی جماعت اسلامی ان 11 جماعتوں کا مقابلہ کررہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کراچی ترقی کرے گا پاکستان ترقی کرے گا، ہمیں ہر صورت بلدیاتی الیکشن چاہئیں، 20 اکتوبر کو پورے شہر میں احتجاج کیا جائے گا، 21 اکتوبر کو باغ جناح میں کراچی کی خواتین کا جلسہ عام ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ کراچی کی بقاء کیلئے بہت بڑی تحریک شروع کریں گے، جمہوریت پر ڈاکے مارنے والے انتخابات سے بھاگتے ہیں، جمہوریت کا مطلب عوام کی رائے ہے، جمہوریت کا مرکز بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں، عالمی سطح پر مہم شروع کی جائے گی، وفاق اور صوبہ دونوں کو جواب دینا پڑے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے بھی بلدیاتی الیکشن کے التواء کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں نیوز کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس اپنے احکامات کی خلاف ورزی پر پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن کو توہین عدالت کا نوٹس دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے شکست کے خوف سے بلدیاتی الیکشن ملتوی کئے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماء خواجہ اظہار الحسن نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ دانشمندانہ قرار دیدیا۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ الیکشن میں پی ٹی آئی کی طرف سے الزامات کی بھرمار تھی، پیپلزپارٹی کو گورنر سندھ کے توسط سے پیغام بھجوایا ہے، مقامی حکومتوں کو بااختیار کرنے کیلئے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کریں۔
خواجہ اظہار نے کہا کہ پی ٹی آئی کو وفاق اور بلدیات کا تجربہ نہیں ہے، جو یو سی کا الیکشن ہار گئے تھے وہ وزیر بن گئے، پی ٹی آئی کو نظام سے دلچسپی نہیں، ایم کیو ایم یہ لڑائی لڑرہی ہے۔
بلدیاتی انتخابات کا التواء: جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان








