اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کیا یہ محض اتفاق ہے یا طے شدہ منصوبہ کہ مبینہ امریکی سازش کے مشہور سائفر کے معمار سفیر اسد مجید خان نے عمران خان کی جانب سے حکومت کی تبدیلی کی مبینہ سازش کا انکشاف کیے جانے سے صرف پانچ دن قبل پاک امریکا تعلقات کو فروغ دینے کیلئے ایک لابنگ فرم کی خدمات حاصل کیں۔
پانچ ماہ بعد ہی عمران خان نے Fenton Arlok LLC نامی اسی لابنگ فرم کی خدمات امریکا میں اپنی پارٹی کی شبیہہ کو بہتر کرنے کیلئے بھی حاصل کیں۔
امریکا میں پاکستانی سفارت خانے نے 21 مارچ 2022 کو پاک امریکا تعلقات کو فروغ دینے کیلئے فینٹن آرلوک ایل ایل سی کی خدمات حاصل کیں اور معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے مطابق، سفارت خانہ اپنی خدمات کیلئے لابنگ فرم کو ماہانہ 30؍ ہزار ڈالرز ادا کرے گا۔
معاہدے پر ابتدائی طور پر 21 مارچ سے 20 ستمبر 2022 تک 6 ماہ کیلئے دستخط کیے گئے تھے جس کے مطابق سفارت خانے کو دو ماہ کی پیشگی ادائیگی کرنا تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ معاہدے پر دستخط سے پانچ دن بعد یعنی 27 مارچ 2022 کو اُس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک عوامی ریلی میں اپنی حکومت کیخلاف غیر ملکی سازش سے متعلق ایک مبینہ دستاویز کی نقل دکھائی۔
بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ امریکا میں اُس وقت متعین پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے عمران حکومت کو یہ سائفر لکھا تھا جس میں دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہونے کی نشاندہی کی گئی۔
اس سائفر میں مبینہ طور پر سفیر اسد مجید خان اور امریکی معاون وزیر برائے جنوبی اور وسطی ایشیا ڈونلڈ لو کے درمیان 7 مارچ 2022 کو ہونے والی میٹنگ کے منٹس شامل ہیں۔ یہ ملاقات لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرنے سے دو ہفتے قبل ہوئی تھی۔
پانچ ماہ بعد یعنی اگست 2022ء میں عمران خان کی پارٹی نے بھی اسی فرم کی خدمات حاصل کیں جس کی خدمات سفیر اسد مجید خان نے امریکا میں پی ٹی آئی کے مثبت امیج کو فروغ دینے کیلئے حاصل کی تھیں۔ تاہم پی ٹی آئی نے معاہدے کے مطابق لابنگ فرم کو ماہانہ 25؍ ہزار ڈالر ادا کیے۔
پی ٹی آئی نے لابنگ فرم کی خدمات اس لئے حاصل کی تھیں کہ امریکا اور پاکستان دونوں میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے باخبر افراد کے ساتھ رابطے کیے جا سکیں اور ان سے مشورہ حاصل کیا جا سکے کہ کس طرح امریکا اور پاکستان کے درمیان تعمیری تعلقات کو بڑھایا جا سکتا ہے اور کلائنٹ اور اس کے معاونین کو مشورہ دیا جائے کہ یہ اہداف کیسے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی اور امریکا میں پاکستانی سفارتخانے کے علاوہ، کونسل آن پاکستان ریلیشنز نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے بھی اسی لابنگ فرم فینٹن آرلوک ایل ایل سی کے ساتھ زبانی معاہدہ کیا۔ معاہدے کے مطابق لابنگ فرم امریکی اور بین الاقوامی میڈیا کو کونسل آن پاکستان ریلیشنز کی پاکستان اور امریکا کے درمیان نتیجہ خیز سفارتی اور اقتصادی تعلقات کی خواہش سے آگاہ کرے گی۔
معاہدے کے مطابق، فینٹن اینڈ آرلوک ایل ایل سی کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ صحافیوں کو پاکستان کی امریکا کے ساتھ مثبت تعلقات کی خواہش کے حوالے سے معلومات اور بریفنگ فراہم کرے اور ساتھ ہی آرٹیکلز شائع کرائے اور پروگرامز نشر کرے، انٹرویوز کا انعقاد کرے اور سوشل میڈیا کے حوالے سے مشورے بھی دے۔
صحافیوں کے ساتھ ہمارے تعلقات عامہ کے کام کا مقصد دیرینہ اتحادی پاکستان اور امریکا کے درمیان مثبت تعلقات کو فروغ دینا اور پاکستان کے خیالات کی وضاحت کرنا ہے۔ ہمارا مقصد غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا اور سرمایہ کاری اور سیاحت کو فروغ دینا ہے۔ ہمارا کام تعلقات عامہ کی معیاری سرگرمیوں تک محدود رہے گا۔
اس معاہدے کے تحت ہم معلومات کے فروغ، صحافیوں کے ساتھ پس پردہ بریفنگنز، انٹرویوز، اوپینین ایڈیٹوریلز کی اشاعت وغیرہ کا کام کریں گے۔ دی نیوز نے سفیر اسد مجید خان کو ایک تفصیلی سوالنامہ ارسال کیا۔ تاہم، ایک یاد دہانی اور دو دن انتظار کرنے کے باوجود انہوں نے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔









