اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اگر رہنمائی کی خاطر اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو دو اہم باتیں سامنے آئی ہیں۔ اول، جیسا کہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ یہ پی ٹی آئی بمقابلہ حکمران اتحاد الیکشن تھے؛ اس کے برعکس یہ پارٹی بمقابلہ پارٹی الیکشن ثابت ہوا ہے کیونکہ ووٹنگ کے طرز کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ جس پارٹی نے اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے صرف وہی اپنے حامیوں کو متحرک کر پائی۔ صرف ملتان میں ایسا ہوا کہ پیپلز پارٹی کی حمایت میں نون لیگ کے ووٹر بھی آگئے۔ دوم، ووٹروں نے کم ٹرن آؤٹ کے ذریعے اپنی بیزاری کا اظہار کیا ہے اور ایسا تمام جماعتوں کے معاملے میں ہوا ہے جبکہ ووٹ بینک میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا ہے۔ پی ٹی آئی کے معاملے میں دیکھیں تو 6؍ حلقوں میں سے ایک میں ووٹ بینک میں اضافہ دیکھا گیا تو پانچ حلقوں میں ووٹ بینک میں کمی واقع ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی وہ واحد جماعت تھی جس نے تمام 11؍ حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے۔ عمران خان خود قومی اسمبلی کے سات حلقوں سے بطور امیدوار کھڑے ہوئے اور ان میں سے 6؍ نشستوں وہ مختلف مارجن کے ساتھ کامیاب ہوئے۔ فیئر اینڈ فری الیکشن نیٹ ورک (فافین) کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں (نون لیگ، پیپلز پارٹی، اے این پی اور جے یو آئی ف) کے درمیان اگرچہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ تھی لیکن یہ لوگ صرف اپنی پارٹی کے ووٹروں کو ہی پولنگ اسٹیشنز تک لا سکے۔ جائزے میں تقابل پیش کیا گیا ہے کہ 2018ء میں کس جماعت نے کتنے ووٹ حاصل کیے اور 2022ء کے ضمنی الیکشن میں کس جماعت کو کتنے ووٹ ڈالے گئے۔ این اے 24 چارسدہ کی مثال لے لیں جہاں ایمل ولی خان امیدوار تھے۔ ان کی پارٹی اے این پی کو 2018ء کے جنرل الیکشن میں 59؍ ہزار 483؍ ووٹ ملے تھے جبکہ اتوار کے الیکشن میں انہیں 68؍ ہزار 356؍ ووٹ ملے۔ بظاہر ووٹ میں اضافہ ہوا ہے لیکن جے یو آئی ف کو 2018ء میں اس حلقے سے 38؍ ہزار 252؍ ووٹ ملے تھے، لیکن اتوار کے الیکشن میں یہ جماعت غائب تھی۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کو 2018ء میں 10؍ ہزار 462؍ ووٹ ملے تھے اور نون لیگ کو 1363؍ ووٹ۔ اگر ان جماعتوں کے 2018ء کے ووٹوں کو جمع کیا جائے تو یہ تعداد 97؍ ہزار 735؍ بنتی ہے اور اگر اتنی تعداد میں ووٹ اے این پی کے امیدوار کو ملتے تو عمران خان کے حاصل کردہ 78؍ ہزار 589؍ ووٹوں کے مقابلے میں یہ جماعت 10؍ ہزار 233؍ ووٹوں کے فرق سے جیت جاتی۔ 2018ء میں پی ٹی آئی کے امیدوار کو 83؍ ہزار 495؍ ووٹ ملے تھے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس مرتبہ اس جماعت کے 5؍ ہزار ووٹ کم ہوئے ہیں۔ این اے 22؍ مردان سے پی ٹی آئی نے جے یو آئی ف کو 8500؍ ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ دونوں جماعتوں کو سابقہ الیکشن کے مقابلے میں زیادہ ووٹ ملے۔ 2018ء میں پی ٹی آئی کو 58؍ ہزار 577؍ ووٹ ملے جبکہ اتوار کے الیکشن میں اس جماعت کو 76؍ ہزار 681؍ ووٹ ملے۔ جے یو آئی ف نے 2018ء کے الیکشن میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا تھا اور اسے 56؍ ہزار 318؍ ووٹ ملے تھے اور اتوار کے دن اسے 68؍ ہزار 181؍ ووٹ ملے۔ 2018ء کے الیکشن میں اے این پی کو 27؍ ہزار 104؍، نون لیگ کو 36؍ ہزار 625؍ جبکہ پیپل پارٹی کو 13؍ ہزار 477؍ ووٹ ملے تھے جس کا مطلب ہے کہ تینوں جماعتوں کا مجموعی ووٹ بینک ایک لاکھ 6؍ ہزار 420؍ ووٹ تھا۔ ضمنی الیکشن میں اتنی تعداد میں ووٹ نہیں ڈالے گئے۔ این اے 31؍ پشاور سے پی ٹی آئی کی پوزیشن بہتر تھی جسے ضمنی الیکشن میں 57؍ ہزار 514؍ ووٹ ملے جبکہ 2018ء کے الیکشن میں اسے 87؍ ہزار 895؍ ووٹ ملے تھے۔ اے این پی کے امیدوار غلام احمد بلور کو اتوار کے دن 32؍ ہزار 252؍ جبکہ 2018ء کے الیکشن میں 42؍ ہزار 476؍ ووٹ ملے تھے۔ جے یو آئی ف کو 2018ء میں 11؍ ہزار 657؍ ووٹ ملے تھے لیکن اتوار کے ضمنی الیکشن میں جے یو آئی ف کے ووٹرز نے اے این پی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیے۔ این اے 157؍ ملتان کی بات کی جائے تو 2018ء میں نون لیگ کو 62؍ ہزار 37؍ ووٹ جبکہ پیپلز پارٹی کو 70؍ ہزار 830؍ ووٹ ملے تھے۔ اس مرتبہ کے ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے علی موسیٰ گیلانی 25؍ ہزار 186؍ ووٹوں کے فرق سے جیتے۔ انہیں ایک لاکھ 7؍ ہزار 327؍ ووٹ ملے۔ نون لیگ کیلئے بڑا دھچکا این اے 108؍ فیصل آباد کی نشست تھا کیونکہ یہ پارٹی کیلئے محفوظ ترین نشست سمجھی جاتی تھی لیکن یہاں سے عمران خان جیت گئے۔ اتفاق کی بات ہے کہ پی ٹی آئی اور نون لیگ کو سابقہ الیکشن کے مقابلے میں اِس مرتبہ کم ووٹ پڑے۔ 2018ء میں پی ٹی آئی کو ایک لاکھ 12؍ ہزار 740؍ ووٹ جبکہ نون لیگ کو ایک لاکھ 11؍ ہزار 529؍ ووٹ ملے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ پی ٹی آئی کو صرف ایک ہزار ووٹوں کے فرق سے کامیابی ملی لیکن اتوار کے ضمنی الیکشن میں یہ فرق 24؍ ہزار 575؍ ووٹوں تک بڑھ گیا۔ دوسری جانب این اے 188؍ نانکانہ صاحب کی نشست پر پی ٹی آئی اور نون لیگ کے ووٹوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا لیکن کامیابی کا فرق بہت کم رہا۔ عمران خان جیت گئے اور کامیابی کا فرق 12؍ ہزار 156؍ ووٹ رہا۔ 2018ء میں پی ٹی آئی کو 63؍ ہزار 818؍ ووٹ ملے تھے اور اس مرتبہ یہ تعداد 90؍ ہزار 180؍ تک جا پہنچی۔ نون لیگ کو 2018ء میں 61؍ ہزار 413؍ ووٹ ملے تھے اور اس مرتبہ اسے 78؍ ہزار 24؍ ووٹ ملے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس مرتبہ پیپلز پارٹی والوں نے بھی نون لیگ کے امیدوار کو ووٹ دیے ہیں، پیپلز پارٹی والوں کو 2018ء میں 18؍ ہزار 726؍ ووٹ ملے تھے۔
پاکستان ڈیموکریٹک الائنس، حکومت میں اتحاد، الیکشن میں منقسم








