بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

8سال گزرنے کے باوجود تھرپارکر میں آر او پلانٹ منصوبہ ناکام

اسلام کوٹ:8سال گذرنے کے باوجود سندھ حکومت تھرپارکر میں آر او پلانٹ منصوبہ چلانے میں ناکام،مبینہ کرپشن و بدانتظامی کے باعث 90فیصد پلانٹس غیر فعال،16 لاکھ آبادی میٹھے پانی کی فراہمی سے محروم۔ تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے صحرائے تھر میں 8سال قبل کڑوے پانی کو پینے کے لائق بنانے کے لیئے آر او پلانٹ کا میگا منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔حاصل کردہ معلومات کے مطابق5ارب روپے کی لاگت سے نصب 837آر او پلانٹس میں سے اس وقت 687 پلانٹ بند ہو گئے ہیں اور مشینری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کیساتھ زنگ آلودہ ہو چکی ہے۔محکمہ پبلک ہیلتھ انتظامیہ کے مطابق پلانٹ چلانے والی نجی کمپنی کا کنٹریکٹ جون2022میں ختم ہو چکا ہے،جس کی بڑے پیمانے پر شکایات تھیں اور اس دورانیہ میں بجٹ وصولی کے باجود پلانٹس کی میٹینینس پر خرچ نہ ہو سکی تھی ۔جس کے بعد این جی او کو دیئے ہوئے کچھ پلانٹ اور محکمہ پبلک ہیلتھ کے پاس موجود کل 150کے قریب پلانٹ چل رہے ہیں۔تاہم سروی کے دوران حاصل کردہ اعداد و شمار کے کے مطابق حقائق اس کے برعکس ہیں۔ضلع کی ساتوں تحصیلوں مٹھی اسلام کوٹ نگرپاکر چھاچھرو ڈاہلی کلوئی اور ڈیپلو کے شہری و دیہی علاقوں میں نصب پلانٹس بدستور بند پڑے ہوئے ہیں۔نتیجے میں تھر کے باسی کڑوا اور مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔تو دوسری جانب سیکڑوں آر او پلانٹ ملازمین تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے گھر بیٹھ گئے ہیں اور بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں۔اس ضمن میں جنگ کی جانب سے رابطہ کرنے پر ایس ڈی او پبلک ہیلتھ اشفاق میمن نے بتایا کہ اس وقت 780آر او پلانٹس میں سے 150کے قریب فعال ہیں اور فلٹریشن پلانٹ چلانے والی کمپنی کا معاہدہ ختم ہوچکا ہے،بند پلانٹس کو فعال بنانے کے حوالے سے ہیڈ آفیس کو رپورٹ بھیج چکے ہیں۔ دریں اثناء تھری باشندوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ صحرائے تھر کے دیہی و شہری علاقوں میں آر او پلانٹس کی بحالی کیلئے مستقل بنیادوں پر عملی اقدامات کیئے جائیں تاکہ تھری باسیوں کو صاف پانی کی سہولت میسر آ سکے اور اربوں کا یہ منصوبہ بکھرنے کے بجائے چل سکے۔ تھرپارکر،درجنوں فلٹریشن پلانٹس سے مشینری غائب ہونے کا انکشاف۔اسلام کوٹ آر او پلانٹ پر تعینات عملے کے ایک ملازم نے جنگ کو بتایا کہ پلانٹ سے موٹریں اور دیگر آلات غائب ہیں،اسی طرح سے دیہی علاقوں میں نصب متعدد آر او پلانٹس سے موٹریں اور دیگر میٹریل موجود نہیں رہا ہے،ذرائع کے مطابق کام کرنے والی کمپنی نے مرمت کے لیئے مشینیں نکالی تھی جو تاحال واپس نہ ہو سکی ہیں۔نتیجے میں پلانٹس دن بہ دن بکھرتے جا رہے ہیں۔ تھرپاکر،750 آر او پلانٹ آپریٹرز دو سالوں سے تنخواہوں سے محروم اور مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔تھر کے یہ آپریٹر گذشتہ دو روز سے کراچی پہنچے ہوئے ہیں اور کراچی پریس کلب کے سامنے اپنی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف سندھ حکومت و نجی کمپنی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔آر پلانٹ آپریٹر ایسوسیشن کے رہنماء عرفان بجیر نے جنگ کو بتایا کہ آر او پلانٹ کو جان بوجھ کر ناکام بنایا گیا ہے جہاں پلانٹس کو تباہ کیا جا رہا ہے وہاں ملازمین کو بھی تنخواہیں نہیں دی جا رہی ہیں۔