بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی پینے سے کون سے بیماری ہوجاتی ہے؟ کھانے سے پہلے یہ ضرور جان لیں تاکہ نقصان سے بچ سکیں

مونگ پھلی کھانے میں مزیداراور ذائقہ دار گری ہے، خاص کرسردیوں میں اسے کھانے کا لطف ہی اور ہے۔ یہ بے پناہ فائدوں کی حامل گری دار میوہ کہلایا جاتا ہے لیکن اس کے جہاں فائدے ہیں وہیں کچھ نقصانات بھی ہیں۔ یہاں ہم آپ کو اس کے کچھ سائڈ ایفیکٹس اوراس کے اوپر پانی پینے کے کچھ نقصانات بتائیں گے۔

مونگ پھلی کے سائڈ ایفیکٹس اورالرجیز:

مونگ پھلی میں جو اینٹی نیوٹرنٹس ہوتے ہیں وہ ایسے مادے ہوتے ہیں، جو عام طور پر جسم میں غذائی اجزاء کے جذب کو خراب کرتے ہیں اور کھائی جانے والی خوراک کی غذائیت کو کم کرتے ہیں۔

مونگ پھلی کی الرجی بعض اوقات افلاٹوکسین نامی زہریلے مادے کی پیداوار کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بھوک میں کمی اور آنکھوں کی پیلی رنگت یرقان اور جگر کے مسائل کی تمام مخصوص علامات کا باعث بنتی ہے ۔

مونگ پھلی کی الرجی ممکنہ طور پر شدید اور جان لیوا ہو سکتی ہے۔ جن لوگوں کو مونگ پھلی اور مونگ پھلی کی مصنوعات سے الرجی ہے ان سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی پینا کیوں خطرناک ہے؟

اس موسم میں مونگ پھلی کھانے کا شوق تو اکثر افراد کو ہوتا ہے یہ مزیدار میوہ سردیوں میں کمبل یا لحاف میں دبک کر کھانے کا اپنا ہی لطف ہے مگر کیا اس گری کو کھانے کے بعد پانی پینا واقعی صحت کے لیے نقصان دہ ہے؟ آپ نے اکثر لوگوں سے سنا ہوگا کہ مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی پینے سے گریز کرنا چاہئے۔ کیونکہ اس کے نتیجے کھانسی اور گلے میں خراش ہوسکتی ہے۔ اگرچہ یہ سائنسی طور پر ثابت شدہ نہیں مگر کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حوالے سے کئی باتیں کی جاتی ہیں جن میں سے طبی سائنس نے کسی کو بھی فی الحال ثابت نہیں کیا۔ ایک خیال یہ ہے کہ چونکہ مونگ پھلی جیسی گریاں قدرتی طور پر خشک ہوتی ہیں تو ان کے کھانے سے پیاس محسوس ہوتی ہے اور اس میں موجود تیل کی موجودگی کی وجہ سے اس کے اوپراگر پانی پیا جائے تواس سے گلے میں خراش بھی پیدا ہوسکتی ہے اور مونگ پھلی کی چکنائی گلے میں جمع ہوسکتی ہےجو کہ گلے میں خراش اور کھانسی کا باعث بنتا ہے۔

ایک اور خیال یہ ہے کہ مونگ پھلی کھانے سے جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے اوراسی لئے اسے سردیوں میں زیادہ کھایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانی پینا اس حرارت کو کم کرتا ہے، مگر حرارت اور ٹھنڈک کا یہ عمل بیک وقت ہونا نزلہ زکام، کھانسی اور نظام تنفس کی متعدد بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔

ویسے کچھ ماہرین تو کسی بھی کھانے کے بعد پانی پینے کو اچھا عمل نہیں سمجھتے اسکے علاوہ یہ سنت بھی ہے کہ کھانے کے بعد پانی نہ پیا جائے۔ کیونکہ اس سے بدہضمی یا تیزابیت کا امکان بڑھتا ہے، اس لیے کم از کم دس سے پندرہ منٹ تک انتظار کرنا بہتر ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک خیال یہ بھی ہے کہ مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی پینا معدے کے مسائل کا باعث بنتا ہے خصوصاً بچوں میں، اکثر اوقات یہ مونگ پھلی سے الرجی کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس پر پانی پینا حالات بدتر بنادیتا ہے۔ ویسے اگر مونگ پھلی کے بعد پانی پینا نقصان دہ ثابت نہیں بھی ہوا تو بھی احتیاطی تدبیر اختیار کرنا کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاتا۔