پی ٹی آئی کےمستعفی رکن قومی اسمبلی صالح محمد خان کی اسلام آباد پولیس کی زیرحراست تصویر آج سوشل میڈیا میں زیر بحث رہی، بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام آباد پولیس کی ایک رکن قومی اسمبلی کی تضحیک کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
لوگوں کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق کاروائی ہونی چاہئے، کسی کی تضحیک مناسب نہیں۔
تحریک انصاف کے رہنما صالح محمد جنہیں گزشتہ روز الیکشن کمیشن کے باہر سے گزشتہ روز اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا گیا تھا۔
افسوسناک صورتحال!
فاشسٹ حکومت جمہوری اقدار کی پامالی کا روز نیا نمونہ پیش کرتی ہے اس حکومت کی متعصب سوچ وفاق کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
پشتون رکن قومی اسمبلی صالح محمد خان کی یہ تصویر جمہوریت کہ منہ پر طمانچہ ہے اسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے pic.twitter.com/stbwG0c8HT— Mian Aslam Iqbal (@MMAslamIqbal) October 22, 2022
پی ٹی آئی رہنما میاں محمد اسلم نے کہا کہ افسوسناک صورتحال!فاشسٹ حکومت جمہوری اقدار کی پامالی کا روز نیا نمونہ پیش کرتی ہے اس حکومت کی متعصب سوچ وفاق کو نقصان پہنچا رہی ہے۔پشتون رکن قومی اسمبلی صالح محمد خان کی یہ تصویر جمہوریت کہ منہ پر طمانچہ ہے اسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے
سابق رکن قومی اسمبلی صالح محمد خان کو گرفتار کرنے کے بعد ان کی تھانہ سیکریٹریٹ میں کس طرح سے تذلیل کی جا رہی ہے جیسے یہ 302 کا مجرم ہو حالانکہ کل قومی اسمبلی سے بل پاس ہوا ہے کہ کسی رکن قومی اسمبلی کو اسپیکر کے اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ pic.twitter.com/UYNomlZsAJ
— Asad Qaiser (@AsadQaiserPTI) October 22, 2022
سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ سابق رکن قومی اسمبلی صالح محمد خان کو گرفتار کرنے کے بعد ان کی تھانہ سیکریٹریٹ میں کس طرح سے تذلیل کی جا رہی ہے جیسے یہ 302 کا مجرم ہو حالانکہ کل قومی اسمبلی سے بل پاس ہوا ہے کہ کسی رکن قومی اسمبلی کو اسپیکر کے اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران خان کو نا اہل قرار دیے جانے کے بعد الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر پر فائرنگ کے واقعے کے الزام میں پی ٹی آئی ایم این اے صالح محمد کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔
فائرنگ کے واقعے پر پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی صالح محمد خان اور خیبر پختونخوا پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ ایس ایچ او تھانہ سیکرٹریٹ کی مدعیت میں درج کیا ہے۔
درج مقدمے میں اقدام قتل اور پولیس کے ساتھ مزاحمت کی دفعات بھی شامل ہیں جس میں صالح محمد خان، گن مین تصدق علی شاہ اور شاہ زیب کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔









