اسلام آباد( شیراز حسین) پاکستان میں خواتین کو معاشی لحاظ سے بااختیاربنانے کے لئے اگرچہ حکومتی سطح پر بھی اقدامات کئے جارہے ہیں تاہم اس سلسلے میں بعض خواتین بھی انفرادی طور کوششیں جاری کھے ہوئے ہیں ،ان باہمت اور انسانیت کی جذبے سے سرشار خواتین میں سے ایک چارسدہ ویمن چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کی باحجاب صدر صفیہ ناز ہیں ، جنہوں نے کاروباری نمائشوں کے انعقادکے ذریعے پسماندہ خواتین کو مصنوعات کی خرید و فروخت کیلئے آگاہی فراہم کررہی ہیں تا کہ وہ اپنے معاشرتی اور معاشی حالات بہتر بناسکیں ان کی کاوشوں سے اب تک پچاس سے زائد کاروباری خواتین چارسدہ چیمبر کا حصہ بن چکی ہیں۔
چارسدہ سمیت خیبرپختونخوا کے دیگرعلاقوں میں عموماً خواتین پردے کی سختی سے پابندی کرتی ہیں تاہم پردے کی اس پابندی کو صفیہ نے خواتین کو معاشی طو ر پربااختیاربنانے کی کوششوں میں آڑے نہیں آنے دیا اور خواتین کےلئے کاروباری نمائشوں اور تربیتی پروگراموں میں پردے کے اہتمام کاخاص خیال رکھا جاتا ہے۔
صفیہ ناز بتاتی ہیں کہ چارسدہ کی ہنر مند خواتین پاکستان کے بڑے شہروں سے آرڈر حاصل کرکے پیک شدہ خصوصی میوے والا گڑ کی سپلائی کرتی ہیں ، حالیہ سیلاب کی وجہ سے بہت سی خواتین کا کاروبار ختم ہوچکا ہے، گھروں میں پانی داخل ہونے سے بعض خواتین کی تیار کردہ مصنوعات بھی تباہ ہوگئی ہیں جنہیں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کےلئے مدد کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ چارسدہ کی خواتین میں بہت باصلاحیت ہیں مگر مالی مددحاصل نہ ہونے سے وہ آگے نہیں بڑھ رہی ہیں اور گھروں تک محدود ہیں۔ بتاتی ہیں کہ اگر چارسدہ کی خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنایا جائے تو وہ پورے ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں،لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ چارسدہ کی غریب خواتین کی مالی مدد کرے تاکہ ان کے مسائل حل ہو سکیں۔
صفیہ نازکے مطابق چارسدہ چیمبر چارسدہ اور دیگر بیشتر علاقوں میں خواتین کے کاروبار کو مزید فروغ دینے کیلئے تربیت دے چکا ہے، گزشتہ دنوں سوشل ویلفیئرآفس میں ایک منعقدہ پروگرام میں چارسدہ چیمبر کی جانب سے خواتین کو کاروبار کے حوالے سے آگاہ کیا جس کی بدولت زیادہ تعداد میں چارسدہ کی خواتین نے کاروبار شروع کرنے میں دلچسپی دکھائی۔
چارسدہ کی خواتین کو معاشی طور پر بااختیاربنانے کےلئے سرگرم صفیہ ناز








