بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اوآئی سی کانفرنس،فلسطین، کشمیر ودیگرچیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ وژن پر عمل کا عزم،اعلامیہ جاری

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )اسلام آباد میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی ) کی وزرائے خارجہ کونسل کے 48ویں اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فلسطین، کشمیر اور دیگرچیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ وژن پر عمل کرنا ہے۔اعلامیے کے مندرجات، او آئی سی کے چارٹر میں درج عظیم اسلامی اقدار اور نظریات سے ماخوذ ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں اور مقاصد سے مطابقت رکھتے ہیں، عالمی سیاسی، سلامتی، انسانی، اقتصادی اور تکنیکی مسائل کے بارے میں جائزے اور ان سے نمٹنے کے لیے وژن اور نظریات کی نمائندگی کرتا ہے۔
او آئی سی رکن ممالک کے عزم کو واضح کرتا ہے جن میں مشترکہ مفادات کو فروغ دینا اور ان کا تحفظ کرنا، فلسطین، کشمیر اور دیگرمشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے منصفانہ مقاصد کی حمایت، غیر او آئی سی ممالک میں مسلم اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ، مسلم دنیا کے اندر اور اس سے باہر کی سماجی، اقتصادی، سائنسی اور تکنیکی ترقی اور انضمام کے لیے مشترکہ وژن پر عمل کرنا ہے۔ہم آہنگی، رواداری، پرامن بقائے باہمی، زندگی کے بہتر معیار، انسانی وقار اور تمام لوگوں کے درمیان افہام و تفہیم کو فروغ دینا، ہماری اجتماعی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔اعلامیے میں اس سال کے آخر یا اگلے سال، تنازعات کو روکنے اور امن کو فروغ دینے کے لیے طریقہ کار طے کرنے کے لیے وزارتی اجلاس بلانے کی تجویز ہے۔یہ اعلامیہ افغانستان ہیومینیٹرین ٹرسٹ فنڈ (AHTF) کے فعال ہونے کا خیرمقدم کرتا ہے۔یہ اعلامیہ دہشت گردی کی تمام جہتوں اور زاویوں کو مسترد کرتا ہے اور اس برائی کو کسی بھی ملک، مذہب، قومیت، نسل یا تہذیب کے خلاف استعمال کرنے کی مذمت کرتا ہے، یہ حق خود ارادیت کے لیے لوگوں کی جائز جدوجہد کو دہشت گردی سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں کے خلاف او آئی سی کے مضبوط موقف کا اعادہ کرتا ہے۔
اعلامیہ COVID-19 کے تباہ کن سماجی اور اقتصادی اثرات کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر ممالک پر موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں ہمارے نقطہ نظر کو واضح کرتا ہے، اس میں یکساں طور پر ویکسین کی فراہمی ، قرض سے نجات، غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کا مقابلہ کرنے اور موسمیاتی فنانسنگ کے وعدوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صلاحیت پیدا کرنے کے سلسلے میں ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔یہ ترقی اور ڈیجیٹل تبدیلی کو تحریک دینے میں جدت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے روابط اور شراکت کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کا اظہار کرتا ہے۔
دریں اثناء وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کے ہمراہ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ کی تھیم انصاف کی بات کرتی ہے اور کشمیر اور فلسطین دو ایسی مثالیں ہیں جہاں انصاف اور انسانی حقوق کی واضح پامالی ہورہی ہے۔‘وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’او آئی سی کی قراردادوں کے باوجود مسئلہ کشمیر ابھی تک حل طلب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ چینی وزیر خارجہ نے او آئی سی کے کسی اجلاس میں شرکت کی جبکہ مجموعی طور پر اجلاس میں 46 وزارتی وفود اور 800 مندوبین نے شریک ہوئے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ چین او آئی سی ممالک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے جو 400 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے میزائل فائر ہونے کے واقعے پر وزارتی اجلاس منعقد کیا جائے۔ اجلاس میں 140 قراردادیں منظور ہوئیں جن میں اسلاموفوبیا، کرپشن، دہشت گردی اور دیگر مسائل پر بات ہوئی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چینی وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ چین او آئی سی ممالک میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے، چین کی جانب سے بی آر آئی منصوبے کے تحت 400 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ تعاون پر او آئی سی سیکریٹری جنرل کے شکر گزار ہیں، چینی وزیر خارجہ کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، یہ پہلی بار تھا کہ کسی چینی وزیر خارجہ نے او آئی سی کانفرنس میں شرکت کی، کانفرنس میں شرکت کیلئے 800 مندوبین پاکستان آئے، او آئی سی سیکریٹریٹ کے بھی شکر گزار ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد میں وزارت اطلاعات اور وزارت داخلہ کا بہت اہم کردار رہا، مسلح افواج اور پولیس نے بہترین سیکیورٹی فراہم کی، وزیراعظم عمران خان نےاو آئی سی کی تیاریوں میں ذاتی دلچسپی لی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی مندوبین نے یوکرین جنگ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا، اجلاس میں یوکرین میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف کو ریڈور کا مطالبہ کیا گیا۔مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل او آئی سی حسین ابراہیم طہٰ نے کہا کہ حکومت اور عوام کو 75 ویں یوم پاکستان کی مبارکباد پیش کرتے ہیں، او آئی سی کانفرنس شرکا کے پرتپاک خیرمقدم پر عوام اور حکومت پاکستان کے مشکور ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی کاوشیں لائق تحسین ہیں، او آئی سی اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر اسلامو فوبیا سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔