بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

تیل کے محفوظ ذخائر جاری کرنے پر سعودی عرب برہم، مارکیٹس پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیدی

ریاض: سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے تیل کے ایمرجنسی ذخائر جاری کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے اسے مارکیٹوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش قرار دیا ہے، بادی النظر میں یہ تیل کی پیداوار کے معاملے بظاہر امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تندوتیز بیانات ہی کا سلسلہ ہے۔ امریکی سرمایہ کار کمپنی جے پی مورگن چیز کے چیف ایگزیکٹوآفیسر(سی ای او) جیمی ڈیمون اور سعودی وزیربرائے سرمایہ کاری خالدالفالح نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب دیرینہ اتحادی ہیں اور دونوں ممالک موجودہ تنازع سے نکل آئیں گے۔ سعودی دارالحکومت ریاض میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگ اپنے ایمرجنسی ذخائر جاری کررہے ہیں، پہلے بھی کرچکے ہیں، اسے مارکیٹس پر اثرانداز ہونے کے مکینزم کے طور پر استعمال کیا گیا حالاں کہ اس کا اصل مقصد تیل کی سپلائی کی قلت کو ختم کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میری اصولی ذمہ داری ہے کہ میں یہ بات دنیا پر واضح کردوں کہ تیل کے ایمرجنسی ذخائر میں کمی آنے والے مہینوں میں انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے یہ سننے کو مل رہا ہے کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف؟ کیا اس بات کی کوئی گنجائش ہے؟ ہم سعودی عرب کیلئے ہیں اور ہم سعودی عوام کیلئے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے خوب داد سمیٹی۔ سعودی عرب اور واشنگٹن کے درمیان دہائیوں پر محیط دیرینہ دوستی سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں سعودی عرب نے سمجھداری کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے کوئی پرواہ نہیں، آگے چل کر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ شہزادہ عبدالعزیز نے ایمرجنسی ذخائر کے معاملے پر اپنے بیان میں امریکا کا نام نہیں لیا تاہم گزشتہ ہفتے امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر میں سے ایک کروڑ 50 لاکھ بیرل تیل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکا یوکرین جنگ کے بعد سے تیل کی قیمتوں پر قابو پانے کیلئے اب تک اپنے اسٹریٹجک ذخائر میں سے 18 کروڑ بیرل کے ذخائر جاری کرچکا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ڈیوس طرز کی تین روزہ سرمایہ کاری کانفرنس شروع ہوگئی جس میں بڑے اور نامور سرمایہ کاروں نے شرکت کی، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ امریکا سے کشیدہ تعلقات کے باوجود یہ سعودی عرب کی جانب سے جیوپولیٹکل سطح پر سامنے آنے کا مظہر ہے۔ اس کانفرنس میں 400 امریکی کپمنیوں کے چیف ایگزیکٹیو کی شرکت متوقع ہے، کانفرنس کے منتظم نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ کانفرنس میں کسی امریکی حکومتی عہدیدار کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔ امریکی سرمایہ کار کمپنی جے پی مورگن چیز کے چیف ایگزیکٹوآفیسر(سی ای او) جیمی ڈیمون اور سعودی وزیربرائے سرمایہ کاری خالدالفالح نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور امریکا ممکنہ طور پر اپنے موجودہ مسائل کو حل کرلیں گے۔ ریاض میں سرمایہ کاری کانفرنس (ایف آئی آئی) کانفرنس کے چھٹے ایڈیشن میں گفتگو کرتے ہوئے خالدالفالح نے امریکا کے ساتھ تناؤ کوایک ’’تنازع‘‘ کے طور پر بیان کیا ہے جس سے دونوں فریق نکل آئیں گے۔ جیمی ڈیمون نے ان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ’’دیرینہ اتحادیوں کے اپنے مسائل کوحل کرنے کا امکان ہے۔