کراچی: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کو سنجیدگی سے لینا چاہئے، واوڈا اور عمران خان کی باتوں کو پیش نظر رکھیں تو ارشد شریف قتل کے تانے بانے عمران خان کی طرف جاتے ہیں.
فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کے بعد کسی اور شہادت کی ضرورت نہیں رہ گئی، عمران خان ہی ارشد شریف کے قتل کی سازش کا سرغنہ لگتا ہے، فیصل واوڈا نے اس فیملی کو بے نقاب کردیا ہے جسکا تعلق کینیا میں فارم ہاؤس، وقار احمد، خرم احمد اور اس کمپنی سے بتایا جارہا ہے جسکے پاس ارشد شریف گئے تھے، اس فیملی کا دبئی میں بھی بڑا کاروبار ہے جبکہ وہ میڈیا سے بھی منسلک ہیں، فیصل واوڈا نے ان دونوں صاحبان کو ایکسپوز کردیا ہے۔
سینئر تجزیہ کار حامد میر نے کہا رانا ثناء اللہ نےفیصل واوڈا کی پریس کانفرنس سے نتیجہ نکالا کہ ارشد شریف قتل کا مرکزی کردار عمران خان ہیں، رانا ثناء اللہ کا موقف درست مان لیں تو لگتا ہے فیصل واوڈا سے پریس کانفرنس حکومت نے کروائی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کیساتھ‘‘ میں میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
میزبان نے اپنے تجزیہ میں کہا کہ عمران خان سیاسی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر الزامات لگارہے ہیں جبکہ فیصل واوڈا نے سیاسی لوگوں کو اسٹیبلشمنٹ دونوں کو کلین چٹ دیدی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء کا کہنا تھا کہ کینیا کی پولیس قبول کررہی ہے کہ ارشد شریف کی گاڑی پر فائرنگ انہوں نے کی ہے، فیصل واوڈا بتا رہے ہیں ارشد شریف کو کلوز رینج سے دو گولیاں لگی ہیں اس کا مطلب یہ پولیس کی چلائی گئی گولیاں نہیں ہیں، فیصل واوڈا کہہ رہے ہیں وہ مسلسل ارشد شریف سے رابطے میں تھے ان کی باتوں کو ہم کیسے جھٹلاسکتے ہیں.
کینیا میں فارم ہاؤس ،وقار احمد اور خرم احمد سے متعلق معلومات کی تصدیق کیلئے دو تجربہ کاروں لوگوں کو بھیجا ہے، میری پوزیشن اجازت نہیں دیتی کہ فیصل واوڈا کی طر ح بات کرسکوں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ فیصل واوڈا کی باتوں کو بادی النظر میں درست تسلیم کرلیا جائے تو دو شخصیات ہی ہیں جن کے اوپر اس معاملہ میں دھیان جاتا ہے، پچھلے دو گھنٹے سے خبر چل رہی تھی کہ فیصل واوڈا اس قتل کے بارے میں انکشافات اور کرنے والے ہیں، مجھ سمیت سب کو تجسس تھا کہ فیصل واوڈا کیا شواہد پیش کرنے والے ہیں، اسی لیے پی ٹی وی سمیت تمام چینلز نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس دکھائی، میرا فیصل واوڈا سے ایسا تعلق نہیں کہ وہ میرے ساتھ ایسی اہم بات شیئر کریں۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ کینیا کی پولیس کا پہلا موقف درست ہے یا دوسرا موقف درست ہے، کینیا کی پولیس کا دوسرا موقف مانا جائے کہ ارشد شریف پر گاڑی کے اندر سے فائر کیا گیا تو یہ بات فیصل واوڈا کی بات سے ہم آہنگ ہے، ہماری تحقیقاتی ٹیم کینیا چلی گئی ہے اگلے چند دن میں شواہد اکٹھے کر کے لے آئے گی، تحقیقاتی ٹیم فارم ہاؤس بھی جائے گی اور پتا کریگی وہ فارم ہاؤس کس کا ہے، تحقیقاتی ٹیم وقار احمد اور خرم احمد تک بھی رسائی حاصل کرے گی، ایک افواہ ہے فارم ہاؤس کس کا ہے مگر کنفرم ہونے تک کچھ کہنا مناسب نہیں ہوگا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان ارشد شریف کے قتل کا سیاسی فائدہ اٹھارہے ہیں، عمران خان پتا نہیں کس موقع کے انتظار میں لانگ مارچ آگے کررہے تھے، جیسے ہی ارشد شریف کی میت آنے لگی تو لانگ مارچ کا اعلان کردیا،فیصل واوڈا کی باتوں کے تناظر میں عمران خان مجرم ہیں.
جوڈیشل کمیشن عمران خان، فیصل واوڈا اور مراد سعید کو شامل تفتیش کرے، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ارشد شریف کا معاملہ طے پاگیا تھا تو اسے باہر جانے پر کیوں مجبور کیا گیا، ارشد شریف کے قتل کے مجرموں کا تعین واقعاتی شہادت ہی کرے گی، دیکھنا ہے کینیا میں ارشد شریف جن لوگوں کے پاس ٹھہرا ان لوگوں کا کس کے ساتھ تعلق ثابت ہوتا ہے، واقعاتی شہادت پوری طرح دو بندوں پر فٹ ہورہی ہے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق دہشت گرد لانگ مارچ سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں.
پاکستان کے دشمن بھی لانگ مارچ سے فائدہ اٹھانے کا سوچ رہے ہیں، ایسے ملک دشمنوں کے اثرات کے پی میں بھی نظر آرہے ہیں، عمران خان کو کسی صورت ریڈ زون میں داخل ہونے نہیں دیں گے، اس مقصد کیلئے آرٹیکل 245نافذ کرنے کے ساتھ رینجرز بھی تعینات کریں گے، ریاست کو کسی صورت مسلح جتھے کے سامنے کمپرومائز نہیں ہونے دیں گے،عمران خان نے ریڈزون میں آنے کی کوشش کی تو جو نقصان ہوگا اس کی ذمہ داری انہی پر ہوگی۔
سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر رانا ثناء اللہ کے تبصرے نے اسکی اہمیت ختم کردی ہے، رانا ثناء اللہ نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کا بھرکس نکال دیا ہے، لگتا ہے فیصل واوڈا سے پریس کانفرنس حکومت نے کروائی ہے۔
حامد میر کا کہنا تھا کہ حکومت نے ارشد شریف کے قتل پر کمیشن بنادیا ہے ہمیں اسکی فائنڈنگز کا انتظار کرنا چاہئے، فیصل واوڈا خود ہی جج بن کر فیصلے صادر کرنا شروع کردیں تو نامناسب بات ہے.
ارشد شریف کی والدہ محترمہ نے فیصل واوڈا کے الزامات کی تردید کردی تو وہ کیسا محسوس کرینگے، قتل کے مقدمے میں زیادہ اہمیت مقتول کے اہل خانہ کی ہوتی ہے، ارشد شریف کے اہلخانہ میں سب سے قریبی شخصیت انکی والدہ اور اہلیہ ہیں.
ارشد شریف کی والدہ اور اہلیہ کا بھی اپنا موقف اور کچھ الزامات ہیں، ارشد شریف نے جو کچھ اپنی والدہ اور بیوی سے شیئر کیا اسکی زیادہ اہمیت ہے، ارشد شریف کی والدہ کو پتا ہے انکے گھر کے باہر کیا واقعات پیش آئے۔میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا نے ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے کئی سوالات اٹھادیئے ہیں.
عمران خان سیاسی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر الزامات لگارہے ہیں جبکہ فیصل واوڈا نے سیاسی لوگوں کو اسٹیبلشمنٹ دونوں کو کلین چٹ دیدی ہے، صحافی فیصل واوڈا سے انکی باتوں کے ثبوت مانگتے رہے مگر انہوں نے کوئی ثبوت نہیں دیا،فیصل واوڈا نے عمران خان کے بیانیہ کے برعکس بات کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ ارشد شریف اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں تھے اور واپس آنے کیلئے تیار تھے.
دلچسپ بات یہ ہے کہ فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پی ٹی وی پر بھی دکھائی گئی، پی ٹی آئی رہنما مراد سعید نے ارشد شریف کے باہر جانے کے چھ دن بعد کہا تھا کہ کسی اور ملک میں بھی ارشد شریف کو ٹارگٹ کرنے کی منصوبہ بندی ہوئی ہے، لیکن آج فیصل واوڈا نے اس کے برعکس دعوے کردیئے، فیصل واوڈا کی بات کی بغیر ثبوت نہ کوئی اہمیت ہے نہ وہ کچھ ثابت کرتی ہے۔









