اسلام آباد : سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان کرنے کے بعد پاکستان کی سیاست ایک اور نئی گرما گرمی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
لگتا ہے کہ اتحادی حکومت کو اس اعلان سے فرق نہیں پڑا اور وہ اپنی آئینی مدت مکمل کرنے اور موجودہ آرمی چیف کے ریٹائر ہونے سے قبل نیا آرمی چیف مقرر کرنے کے معاملے میں پرعزم ہے۔
اسلام آباد کے قابل بھروسہ ذرائع بتاتے ہیں کہ اتحادی حکومت کا طرز حکمرانی نون لیگ کے قائد نواز شریف کے طرز سیاست جیسا ہے۔ وفاقی سطح پر اپنی 32؍ سالہ سیاست (بشمول تین مرتبہ وزیراعظم کے عہدے کے ساتھ) کے نتیجے میں نواز شریف اب سخت جاں ہو چکے ہیں۔
ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی سیاست کے حوالے سے اپروچ بڑی ہی سادہ ہے، وہ ایک فوکل پوائنٹ بناتے ہیں اور اسی پر قائم رہتے ہیں چاہے کچھ ہو جائے۔ اس وقت بھی ہم یہی کچھ دیکھ رہے ہیں۔
اس مرتبہ فوکل پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف کی نئے آرمی چیف کے تقرر کے معاملے میں بالادستی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف اس معاملے پر سمجھوتے کیلئے تیار نہیں اور کسی کو بھی وزیراعظم کی اتھارٹی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کو کئی لوگ آرمی چیف کے تقرر کے معاملے پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ سب ہی جانتے ہیں کہ اس عہدے کیلئے عمران خان کی من پسند شخصیت کون ہے کیونکہ انہیں امید ہے کہ وہ شخص ان کے آئندہ عام انتخابات میں حکومت میں واپسی کو یقینی بنا سکتا ہے۔
اسی دوران آرمی چیف کے تقرر سے پہلے وہ اپنی عوامی حمایت بھی دکھانا چاہتے ہیں۔ سینیارٹی کے لحاظ سے دیکھیں تو آرمی چیف کے عہدے کیلئے پہلے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر آتے ہیں۔ انہیں 2018ء میں آئی ایس آئی چیف لگایا گیا تھا لیکن ان کے عہدے کی معیاد کم رہی۔
منیر کی جگہ 8؍ ماہ کے اندر ہی اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے اصرار پر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو اس عہدے پر لگا دیا گیا۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا نام آتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران وہ اہم عہدوں جیسا کہ ڈی جی ایم او پر کام کر چکے ہیں جس نے ٹی ٹی پی کیخلاف آپریشن کی قیادت کی۔ وہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کی ٹیم میں بھی شامل تھے۔
اس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس کا نام ہے۔ وہ بھارتی امور کے حوالے سے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ وہ فی الوقت چیف آف جنرل اسٹاف ہیں۔ اس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کا نام آتا ہے جو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر ہیں۔ اس سے قبل وہ پشاور میں الیون کور میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور پاک افغان بارڈر کی سیکورٹی بھی دیکھتے رہے ہیں۔
آرمی چیف کے عہدے کی دوڑ میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام بھی شامل ہے اور وہ عمران خان کے من پسند ہونے کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ انہوں نے جنرل عاصم منیر کی جگہ سنبھالی اور وہ عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے درمیان کشیدگی کا سبب بھی بنے۔
اگرچہ ’’سیاست زدہ‘‘ ہونے کے معاملے میں ان کے چانسز بہت کم ہیں لیکن کوئی معجزہ ہی انہیں اس عہدے پر لا سکتا ہے۔ عمران خان کے منصوبے کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان حکومت پر سیاسی و عوامی دباؤ ڈال کر انہیں آرمی چیف کے عہدے پر تعیناتی موخر کرنے یا پھر مخصوص افسر کے عہدہ سنبھالنے سے روکنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔
عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان نے ان کے اپنے ساتھیوں کو حیران کر دیا۔ ان کے ایک قریبی ساتھی نے پہلے تو یہ تک کہہ دیا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے عمران خان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ لیکن عمران خان نے اعلان کو دہرایا اور جمعہ کو مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
عمران خان کے کچھ ساتھیوں نے اعتراف کیا ہے کہ لانگ مارچ کی تیاریاں کم ہیں اور پارٹی ورکرز کنفیوز ہیں کہ آگے کیسے بڑھیں۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کے اتحادیوں کو علم نہیں کہ انتظامی سہولت کیسے دیں۔
فیصل واوڈا نے بیان داغ دیا کہ لانگ مارچ میں مجھے لاشیں اور خون نظر آ رہا ہے، ایسی باتیں ہیں جنہوں نے مارچ کو پیچیدہ بنا دیا ہے اور شرکا میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ طاقتور کھلاڑی اپنے ظاہری اور باطنی کارڈز کھیل رہے ہیں، لیکن کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہونے والا ہے۔









