اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر انہوں نے بولنا شروع کیا تو ملک کا نقصان ہو گا۔
نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان کا ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی کے مشترکہ پریس کانفرنس کے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ ’اگر میں کسی طرح کا بھی جواب دوں تو ادارے کا نقصان ہو گا۔
تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’کہتے ہیں سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن پریس کانفرنس بھی کر دی۔
انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس سکیورٹی پر نہیں بلکہ سیاسی تھی، کہتے ہیں سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن پریس کانفرنس بھی کر دی۔ میری تنقید ہمیشہ تعمیری ہوتی ہے، میں چاہتا ہوں پاک فوج کا امیج خراب نہ ہو، کوئی ادارہ قانون سے اوپر نہیں ہونا چاہیے۔‘
ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ’آرمی چیف کی مدمت ملازمت میں توسیع کی بات ہو رہی تھی میں نے کہا وہ آپ کو توسیع دے رہے ہیں تو میں دے دیتا ہوں میں نے ان کو کہا رجیم چینج نہ ہونے دیں۔‘
’میں نے بند کمروں میں کوئی ڈیل نہیں کر رہا تھا، ڈیل کے ذریعے کوئی مجھے کیا دے سکتا تھا؟‘
عمران خان نے کہا کہ آرمی چیف سے ایوان صدر میں عارف علوی کے سامنے ملاقات ہوئی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جن کو قریب سمجھتا تھا وہ بدل گئے، فیصل واوڈا نے ڈرٹی ہیری کی فرمائش پر پریس کانفرنس کی۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جاسوسی کے لیے نوکروں کو پیسے دیے جا رہے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ہمارا احتجاج پُر امن ہوگا،آئین و قانون نہیں توڑیں گے، عدالت نے جو لائنز دیں ان پر رہیں گے، زندگی میں بڑے بڑےلوگوں کو بدلتے دیکھا ہے اور جن کو قریب سمجھتا تھا وہ امتحان کے وقت بدل گئے۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستانی فوج آئین کے مطابق حکومت کا ادارہ ہے، میں نے بہت کوشش کی کسی بات سے ملک کو نقصان نہ ہو، اسٹیبلشمنٹ پر کوئی بھی بات کروں تو فوج کو نقصان ہوگا اسی لئے میں چاہتا ہوں ہماری فوج کا امیج خراب نہ ہو کیونکہ اگر فوج طاقتور نہیں ہوگی تو ملک آزاد کیسے ہوگا۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہمیشہ کوشش کی تعمیری تنقید کروں تاکہ اسٹیبلشمنٹ کا فائدہ ہو، میں ان سے کہا تھا سازش کامیاب ہوئی تو ملکی معیشت کوئی نہیں سنبھال سکے گا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں نے 5 مہینے پہلےکہا تھا پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا، میں نے بند کمرے میں ان سے کیا ڈیل کرنی تھی اور یہ مجھے کیا دے سکتے تھے؟ میں نہیں کہتا کہ یہ سازش کا حصہ تھے لیکن میں کہیں نہیں گیا، میٹنگ پی ایم ہاؤس میں ہوئی تھی۔
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ عابد شیر علی کا باپ کہتا ہے رانا ثناء اللہ نے 18 قتل کئے، شہباز شریف اور اس کے بیٹے کو سزا ہونے لگی تو وہ وزیراعظم بن گیا جب کہ اسحاق ڈار بیان حلفی دے کر جاتا ہے میں شریف فیملی کامنی لانڈرر تھا۔
انہوں نے کہا کہ ارشد شریف نے شیریں مزاری کو میسج کیا میری جان کو خطرہ ہے، ارشد کی والدہ سے پوچھ لو اس کی جان کو کس سےخطرہ تھا اسی لئے ارشد شریف کو میں نے باہر جانے کا مشورہ دیا تھا۔عمران خان نے کہا کہ سب کو پتا ہے ارشد شریف کا منہ بند کرانے کی کوشش کیوں کی گئی اور اس لہ ٹویٹ کس کے خلاف تھیں۔
دوحہ: بھارتی نیوی کے 8 ریٹائر افسران کو قطر میں گرفتار کرلیا گیا، بھارتی اخبار کے مطابق سابق افسران قطری کمپنی کے لیے کام کر رہے تھے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک ٹوئٹر صارف ڈاکٹر میتو بھرگوا نے ٹوئٹ کرتے ہوئے اس کی اطلاع دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریٹائر نیوی افسران 57 دنوں سے دوحہ میں غیرقانونی حراست میں ہیں، ٹوئٹر صارف نے اس میں وزیراعظم مودی، وزیر خارجہ جے شنکر اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو ٹیگ کیا تھا۔
ترکیہ نے امریکا اور بھارت کو نشانہ بنانے کیلئے سائبر آرمی کے قیام میں پاکستان کی مدد کی ،سویڈش تنظیم کادعویٰ
سٹاک ہوم(ممتازنیوز)سٹاک ہوم میں میں انتہا پسندی ،تشدد ،دہشت گردی ،جرائم کی روک تھام کے لئے سرگرم غیر سرکاری تنظیم ’’نارڈک مانیٹر‘‘(NORDIC MONITOR)نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ نے عوامی رائے عامہ کی تشکیل ،جنوب مشرقی ایشیا میں مسلمانوں کے خیالات پر اثر انداز ہونے ،امریکا اور بھارت کو نشانہ بنانے اور پاکستانی حکمرانوں کے خلاف کی جانے والی نقصان دہ تنقید سے نمٹنے کےلئے خفیہ طور پر سائبر آرمی کے قیام میں مدد کی ۔نارڈک مانیٹرکی رپورٹ کے مطابق اس طرح کے یونٹ کے قیام کی تجویز سب سے پہلے 17 دسمبر 2018 کو ترکی کے دورے پر آئے ہوئے وزیر داخلہ سلیمان سویلو اور ان کے میزبان شہریار خان آفریدی جو اس وقت کے وزیر مملکت برائے داخلہ کے درمیان نجی بات چیت کے دوران پیش کی گئی تھی اس ملاقات کو سینئر سطح پر اور اسلام آباد کی وزارت داخلہ کے زیادہ تر عملے سے خفیہ رکھا۔اسی دن سویلو سے ملاقات کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس منصوبے کے حوالے سے گرین سگنل دیا تھا۔
اس خفیہ آپریشن کے بارے میں پہلی بار عوامی سطح پر اعتراف سلیمان سویلو نے 13 اکتوبر 2022 کو کہارمان مارس میں ایک مقامی ٹی وی اسٹیشن کے ساتھ انٹرویو کے دوران کیا تھا۔انہوں نے ملک کا نام نہیں لیا لیکن واضح کیا کہ وہ حقیقت میں پاکستان کے بارے میں بات کر رہے تھے جب انہوں نے ایک ایسے ملک کا حوالہ دیا جو ترکی سے پانچ یا چھ گھنٹے کی براہ راست پرواز تھی۔ حال ہی میں منظور شدہ ایک متنازعہ سوشل میڈیا قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے جو ترکی میں سوشل میڈیا پر تنقید کے لیے مؤثر طریقے سے مجرمانہ اور قید کی سزا کا تعین کرتا ہے، سویلو نے اسلام آباد کے دورے کے دوران اپنی گفتگو کو یاد کیا۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نئے امیر منتخب
ڈھاکہ/لاہور: ڈاکٹر شفیق الرحمان جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نئے امیر منتخب ہوگئے۔وہ گزشتہ تین سال سے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے فرائض سرانجام د ے رہے تھے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش تمام تر آزمائشوں کے باوجود پوری قوت سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق،سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم نے نو منتخب امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن کے نام اپنے خط میں ان کے لیے استقامت اور بنگلہ دیش اور اس کے شہریوں کے لیے نیک تمناؤں کی دعا کی ہے۔سینیٹرسراج الحق نے اپنے خط میں کہا کہ جماعت اسلامی کے سابق امیر مولانا مقبول احمد نے اپنی پیرانہ سالی کے باوجود ایک بحرانی دور میں جماعت کی قیادت کی ہے۔انہوں نے امید ظاہرکی ہے کہ نومنتخب امیر اور جماعت کی قیادت وکارکنان ایک نئی روح کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے برادر ملک بنگلہ دیش کے استحکام اور ترقی کے لیے کوشاں رہیں گے۔واضح رہے کہ یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے دورمیں گزشتہ چند برسوں میں جماعت اسلامی کے امیر 72 سالہ مطیع الرحمان نظامی سمیت متعددرہنماؤں کو1971 کی جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے الزامات میں پھانسی دی گئی۔
جس کے بعد انہیں ایچ الیون کے قبرستان میں دفنادیاگیا۔
صحافی ارشد شریف کی میت کل پاکستان لائی جائیگی، تدفین جمعرات کو ہوگی: اہلیہ
’اینکرپرسن ارشد شریف کو کینیا جانے کا مشورہ کس نے دیا تھا؟‘
ارشد شریف کی ہلاکت، تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ
پیر کو معروف اینکر اور صحافی ارشد شریف کو کینیا میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
وزارت داخلہ نے ارشد شریف کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے دو رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے جو بدھ کے روز کینیا روانہ ہو گئی تھی۔
تحقیقاتی ٹیم میں ایف آئی اے اور انٹیلی جنس بیورو کے افسران شامل ہیں۔
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے تحقیقاتی ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’تحقیقاتی ٹیم ارشد شریف کے پاکستان سے دبئی اور پھر دبئی سے کینیا روانگی کی مکمل وجوہات اور محرکات کا جائزہ لے گی۔‘
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’تحقیقاتی ٹیم ارشد شریف کیس میں پاکستان کے ایک نجی چینل سے منسلک شخصیت کے کینیا میں سونے کی سمگلنگ کے کاروبار سےمتعلق قائم کمپنی کے کردار کا جائزہ لے گی۔‘
اس کے علاوہ منگل کو وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ارشد شریف کی موت کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا بھی اعلان کیا تھا۔
مریم اورنگزیب نے جاری بیان میں کہا تھا کہ ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تحقیقات کرے گا۔
مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ عدالتی کمیشن کے سربراہ حقائق کے لیے سول سوسائٹی اور میڈیا سے بھی کسی رکن کو شامل کر سکتے ہیں۔
( صبر کا پیمانہ لبریز)ISPRاورISI کے ڈائریکٹرجنرلز کی بریفنگ نے عمران کاتمام تر بیانیہ ہوا میں اڑا دیا
سائفربیانیہ مکمل زمین بوس ،عمران ’’اٹیکنگ‘‘ سے دفاعی پوزیشن پر آگئے، اب نرم گوشہ ہونے سے متعلق شک کی بھی گنجائش نہیں رہی
ادارے اپنی آئینی حدود سے بخوبی آگا ہ،مشترکہ بریفنگ سے کئی ابہام دور،سابق وزیراعظم کو اٹھائے گئے سوالوں کے جواب دیناہونگے
اسلام آباد(راشد عباسی)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی طرف سے تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی مشترکہ بریفنگ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیراعظم عمران خان کے ان تمام تر دعوؤں ،بیانات اور عسکری قیادت خصوصاً آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ پر الزامات کادوٹوک اور واضح جواب دیا ، جو وہ اس سال اپریل سے مسلسل لگاتے آرہے تھے جب تحریک عدم اعتماد کے ذریعے انہیں ہٹایاگیا تھا، ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی نے عمران خان کے ہردعوے،بیان اور الزام کو مدلل انداز میں جھوٹا ،من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیا اور اس ضمن میں کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہ رہنے دیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیاکہ جہاں تک سائفر کا معاملہ ہے تو آرمی چیف نے 11 مارچ کو کامرہ میں سابق وزیر اعظم سے خود اس کا تذکرہ کیا تھا جس پر انہوں نے فرمایا تھا یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے، لیکن ہمارے لیے یہ حیران کن تھا جب 27 مارچ کو اسلام آباد کے جلسے میں ڈرامائی انداز میں کاغذ کا ایک ٹکڑا لہرایا گیا اور ڈرامائی انداز میں ایک ایسا بیانیہ دینے کی کوشش کی گئی جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا، ان کا کہنا تھا کہ سائفر کے حوالے سے حال ہی میں کئی حقائق منظر عام پر آچکے ہیں جس نے اس کھوکھلی اور من گھڑت کہانی کو بے نقاب کر دیا ہے، پاکستانی سفیر کی رائے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا،اگرچہ فوج کی طرف سے اس پہلے بھی سائفرکی امریکی سازش سے جوڑنےسے متعلق عمران کے دعوؤں کی نفی کی جاتی رہی ہے لیکن اس کے باوجود عمران خان اس معاملے پر کسی حد تک ابہام پیدا کرتے رہے لیکن مشترکہ بریفنگ کے بعد سائفر کے معاملے پر عمران خان کا گزشتہ چھ ماہ سے بنایاجانے والا بیانیہ زمین بوس ہوگیاہے،سائفر کو چھپائے جانے کے دعوے پر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے سوال اٹھایاکہ کیا دفتر خارجہ نے سائفر چھپایا؟ جو اس وقت سائفر ہینڈل کرنے کے ذمہ دار تھے ان کے خلاف پھر کیا ایکشن لیا گیا اگر نہیں لیا گیا تو کیوں نہیں لیا گیا اور ان کے نام کیوں نہیں لیے جاتے؟ ، یقیناً فوجی ترجمان کے سوال اہمیت کے حامل ہیں جن کے جواب عمران خان کو دینا ہوں گے کیونکہ اس وقت وہ ملک کے چیف ایگزیکٹو تھے۔ اسی طرح جنرل قمر جاوید باجوہ پر عمران خان کے الزام تراشی ان کے لئے غدار کالفظ استعمال کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی نے انکشاف کیا کہ مارچ کے مہینے میں آرمی چیف کو ان کی مدت ملازمت میں غیر معینہ مدت کی توسیع کی پیشکش کی گئی اور میرے سامنے کی گئی،انہوں نے سوالات اٹھا ئے کہ سپہ سالار غدار ہے تو اس کی مدت ملازمت میں اتنی توسیع کیوں دے رہےتھے، ان سے پس پردہ کیوںملتے ہیں؟، مشترکہ بریفنگ میں صحافی ارشد شریف کے قتل کے بعد اداروں پر الزام تراشی کو افسوسناک قراردیتے ہوئے کہاگیاکہ آج دیکھنا یہ ہوگا کہ مرحوم ارشد شریف کے حوالے سے اب تک سامنے آنے والے حقائق کیا ہیں، 5 اگست 2022 کو خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اے آر وائی کے اینکر ارشد شریف کے حوالے سے ایک تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا، ہماری اطلاع کے مطابق یہ تھریٹ الرٹ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی خاص ہدایت پر جاری کیا گیا جس میں شبہ ظاہر کیا گیا کہ افغانستان میں مقیم کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے گروپ نے اسپن بولدک میں ایک میٹنگ کی ہے جو ارشد شریف کو راولپنڈی اور ملحقہ علاقوں میں نشانہ بنانا چاہتے ہیں، اس حوالے سے وفاقی حکومت یا سکیورٹی اداروں سے کسی قسم کی معلومات شیئر نہ کی گئیں کہ کیسے اور کس نے خیبر پختونخوا حکومت کو یہ اطلاع دی کہ ارشد شریف صاحب کو نشانہ بنایا جائے گا، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تھریٹ الرٹ مخصوص سوچ کے تحت جاری کیا گیا جس کا مقصد شاید ارشد شریف صاحب کو ملک چھوڑنے پر آمادہ کرنا تھا جبکہ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ارشد شریف ملک چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے تھے لیکن بار بار ان کو یہ باور کرایا جاتا رہا کہ ان کو خطرہ لاحق ہے ، فوجی ترجمان کے اس موقف کے بعداب پی ٹی آئی کی کے پی حکومت کے الرٹ سے متعلق بہت سے شکوک وشبہات نے جنم لیا ہے اور اسے ان سوالوں کے تسلی بخش جواب دینا ہوں گے، ڈی جی آئی ایس پی آ ر اور ڈی جی آئی ایس آئی کی مشترکہ بریفنگ نے نہ صرف عمران خان کے تمام تربیانیے ،دعوؤں اور بیانات کی قلعی کھول دی بلکہ اگر کسی کو یہ شک تھاکہ فو ج میں عمران کے حوالے سے کوئی نرم گوشہ موجود ہے تو اس شک کی بھی اب کوئی گنجائش نہیں رہی، ا س بریفنگ نے عمران خان کو ایک طرح سےاب ’’ اٹیکنگ ‘‘ پوزیشن سے دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کردیا ہے،اگر وہ مشترکہ بریفنگ میں اٹھائے گئے سوالوں کے تسلی بخش جواب نہیں دے پاتے تو یقیناً اس کا اثر ان کی سیاسی ساکھ اور مقبولیت پر بھی پڑے گا ، ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی کی بریفنگ میں اداروں کے اپنی آئینی حدود میں رہ کرداراداکرنے کے عزم کی تجدید کی گئی بلکہ یہ بھی واضح کردیاگیا کہ آرٹیکل245 کے تحت طلبی کی صورت میں فوج سول حکومت سے بھرپورتعاون کرے گا اور ملک کو کسی صورت غیرمستحکم نہیں کرنے دیا جائے گا ،اس سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ ملک میں جمہوریت کو کسی قسم کاکوئی خطرہ لاحق نہیں ، ادارے اپنی آئینی حدود سے بخوبی آگا ہ ہیں اورمارشل لا کے خدشات کا اظہار کرنے والے بے پرکی اڑا رہے ہیں۔









