لندن: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران کا ہدف نئے آرمی چیف کی تقرری ہے، وہ چاہتا تھا موجودہ حکومت آرمی چیف کی تقرری نہ کر سکے، یہ اپنی 22 سالہ جددوجہد کا ذکر کرتا ہے جو مشرف کی غلامی سے شروع ہوتی ہے، اپنے ہر حربے میں ناکام ہونے کے بعد عمران خان نے لانگ مارچ کا حربہ آزمایا لیکن اس کا یہ پلان بھی فیل ہو گا۔
مریم نواز نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری پرامن طور پر ہو گی، اس تقرری میں نہ اس کا کچھ لینا ہے نہ دینا ہے، عمران خان لانگ مارچ پارٹ ٹائم لانگ مارچ ہے، یہ دوپہر کا کھانا کھا کر مارچ کیلئے نکلتے ہیں، 5 دن سے یہ مارچ لاہور میں پھنسا ہوا ہے، پارٹ ٹائم لانگ مارچ تھوڑی دیر میں ہی ختم ہو جاتا ہے، کل سن رہے تھے لانگ مارچ 10 نومبرکو بھی اسلام آباد نہیں پہنچے گا لیکن جس رفتار سے لانگ مارچ چل رہا ہے تو یہ ایک ماہ میں بھی نہیں پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج یہ گوجرانوالہ میں دن گزارے گا، گوجرانوالہ کے لوگ گھنٹہ گھر پر لگی گھڑی کی حفاظت کریں، گھڑی چور گجرانوالہ میں پھر رہا ہے،
ن لیگ کی مرکزی نائب صدر نے کہا کہ اس کے اتنے بڑے جھوٹ تھے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کو میدان میں آنا پڑا، ایک پروفیشنل شخص کو قوم کے سامنے حقائق لانا پڑے، یہ رات کے اندھیرے میں جن کے پاؤں پکڑتا ہے دن کے اجالے میں ان کے گریبان پکڑتا ہے، ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات کے بارے میں اس نے عوام کو نہیں بتایا، قوم سچ کا انتظار کر رہی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کوعمران خان نے خود تعینات کیا تھا، چیف الیکشن کمشنر نے اس کا بھانڈہ پھوڑا تو وہ برا ہو گیا، عمران خان ایک فارن فنڈڈ فتنہ ہے،عمران خان جب جمہوریت کی بات کرتا ہے تو سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چاہتی تھی لانگ مارچ کی حقیقت قوم کے سامنے آ جائے، صدف نعیم کی شہادت کا بہت افسوس ہے، صدف نعیم کی تصاویر دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ لانگ مارچ کے مقاصد کیا ہیں؟ چار سال یہ فتنہ حکومت میں رہا،کوئی ایسا شعبہ نہیں جہاں اس نے تباہی نہ مچائی ہو۔
انہوں نے کہا کہ کروڑوں روپے اس مارچ کی حفاظت پر خرچ ہو رہے ہیں جس کا کوئی مقصد نہیں، عمران خان بیدردی سے قوم کا پیسہ خرچ کر رہا ہے، عمران خان کے لانگ مارچ سے عوام لاتعلق ہیں، عوام کو اس کا اصلی چہرہ نظر آگیا ہے، عمران خان کے جھوٹوں کا سچ عوام کو پتہ چل گیا ہے، عمران خان سوچ رہے تھے جھوٹا بیانیہ گڑھ کر دباؤ بنائیں گے۔
ن لیگ کی مرکزی نائب صدر نے کہا کہ مرحوم ارشد ملک بھی حقائق سامنے لے کر آئے تھے، یہ چور چور کہتا رہا لیکن نیب کبھی ثبوت پیش نہ کر سکا، عمران خان کو پتہ تھا کہ وہ بہتان بازی کر رہا ہے، بشیر میمن کو مخالفین کی گرفتاری کا اسٹیبلشمنٹ نے نہیں کہا تھا، شوکت عزیز صدیقی اور ارشد ملک نے اس کے سامنے انکشافات کئے، عمران خان نے کبھی اتنی اخلاقی جرات نہیں کی کہ حقائق معلوم کرے، آر ٹی ایس بند کروا کے 2018 میں بھی تم نواز شریف کو نہیں ہرا سکے، عمران خان نے نواز شریف کی بیٹی کو جیل میں ڈالا، نواز شریف کے نام پر ووٹ ڈلتا ہے، وہ تو فیلڈ میں ہے ہی نہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے مریم نواز نے استفسار کیا کہ تمہیں اسٹیبلشمنٹ نے کہا تھا کہ توشہ خانہ سے تحائف چوری کرو؟ اس نے ڈھٹائی سے جھوٹ بولا کہ عدالت نے کہا میں جھوٹا نہیں۔ انہوں ںے انکشاف کیا کہ ایک اور بڑا اسکینڈل آنے والا ہے، انہیں ہیروں کا سیٹ توشہ خانہ سے ملا تھا، عمران خان نے 2 کروڑ روپے میں ہیروں کا سیٹ خرید کر 22 کروڑ کا دبئی میں بیچ دیا۔
مریم نواز نے کہا کہ یہ کہتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اسے نواز شریف اور زرداری کی کرپشن کا بتایا، جسے بند کمرے میں توسیع کی پیشکش کی اسے ہی غدار کہنا شروع کر دیا، عوام کے سامنے یہ انہیں میر صادق اور میر جعفر کہتا رہا، کیا یہ اسٹیبلشمنٹ سے الیکشن کی تاریخ مانگ رہے ہیں؟ کیا یہ اسٹیبلشمنٹ کا کام ہے کہ الیکشن کرائے؟ ان کے جیسے استاد تھے انہوں نے ویسی ہی تعلیم دی۔
عمران کا ہدف نئے آرمی چیف کی تقرری ہے، اسکی جدوجہد مشرف کی غلامی سے شروع ہوتی ہے،ایک بڑا اسکینڈل آنیوالا ہے، مریم نواز








