لاہور(ممتاز نیوز) پاکستان ایگری فورم کے چیئرمین ڈاکٹر ابراہیم مغل نے وزیراعظم شہبازشریف کی طرف سے کسانوں کے لئے اعلان کردہ 1800ارب کے رزعی پیکج کرپشن کی نذرہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے ساڑھے تین سو ارب روپے کا پیکج کا اعلان کیا تھا جس کا 60فیصدپٹواری ، تحصیل دار اورکمشنرز کھا گئے تھے۔زرعی پیکج کے اعلان پر ردعمل کااظہار کرتے ہوئے ابراہیم مغل نے کہاکہ بلاشبہ 1800ارب روپے کا زرعی پیکج ایک اچھا پیکج ہے لیکن اس مسئلہ اس کے درست استعمال اور کرپشن سے بچانے کا ہے،مجھے یاد ہے کہ جب چاول کی فصل تباہ ہوگئی تھی تواس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے کسانوں کے لئے ساڑھے تین سو ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا تھالیکن ہوا یہ کہ اس رقم میں سے 60فیصدپٹواری ، تحصیل دار اورکمشنرز تک کھا گئے جبکہ کچھ پیسے سیکرٹری تک بھی گئے تھے ۔انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امرکی ہے کہ محکمہ زراعت والوں سے ڈیلرز کو بچایا جائے ،چنانچہ وزیراعظم اور وزیر خزانہ کو ایک ایسا فول پروف سسٹم بنانا پڑے گا جس کے تحت زرعی پیکج کوکے پیسوں کو کرپشن کی نذر ہونے سے بچایا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ 1800ارب روپے کے پیکج کی جو خوشیاں بابوئوں کو ہیں ان کا اندازہ نہیں لگا یا جاسکتا ،ا س پیکج کو بلوں سے بچانا ضرور ی ہے، اس کےلئے حکمت عملی بنائی جانی چاہیے ۔ابراہیم مغل نے کہاکہ اگر محکمہ زراعت کا عمل دخل زیرو کردیاجائے تو کام آسان ہوجائیں گے،بوری کے اوپر قیمت لکھی جائے ،اسی طرح اس پر ڈیلر کا نمبربھی لکھاجائے تاکہ کوئی بھی مسئلہ ہو تو اینٹی کرپشن کو شکایت کی جا سکے ۔
1800ارب کازرعی پیکج خوش آئند،اصل چیلنج اسے کرپٹ بابوؤں سے بچانا ہے،ابراہیم مغل








