اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میرے اور ملکی سالمیت کے ضامن اداروں کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی
نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ جولائی اگست میں ہونا ہے ۔ابھی سے اس بارے میں منفی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں ۔موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا ابھی نہیں سوچا ۔میرے اور اداروں کے خلاف جتنی بڑی اور منظم ڈس انفارمیشن مہم چلائی جا رہی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔تحریک عدم اعتماد کا آخری دم تک مقابلہ کروں گا
ابھی تو اپوزیشن کے لیے بہت سے سرپرائزز ہیں 27مارچ کا جلسہ بتائے گا کہ کون کس کے ساتھ ہے جمعہ کو مختلف ٹی وی چینلز کے سینئر اینکر سے ملاقات میں بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اور اداروں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہے
’’ کہ میں یہ کرنے والا ہوں یا وہ کر نے والا ہوں ‘‘ جب کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ میں کوئی ایسا کام کروں جس سے ملکی سالمیت کا ضامن کوئی ادارہ متنازعہ ہو جا ئے
انہوں نے کہا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی تو جولائی اگست میں ہوتی ہے اپریل میں ہی جان بوجھ کر اس حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں ۔میرے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بہت اچھے تعلقات ہیں ۔ ہمارے تعلقات کے بارے میں جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلائی جاتی ہیں ۔
میں نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔وزیراعظم نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ایک آئینی اور قانونی عمل ہے،اس کا میں ہر لحاظ سے سامنا کروں گا اپوزیشن جس طرح خریدو فروخت کررہی ہے انتہائی شرمناک ہے
اور اب یہ عمل ہمیشہ کے لیے ختم ہونا چاہیے ۔عمران خان نے 27مارچ کے جلسہ کے بارے میں انتہائی پر اعتماد تھے اور انہوں نے کہا کہ اس روز سب کو پتہ چل جائے گا کہ کون کس کے ساتھ ہے ۔









