بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایک شخص نے کہا قبر کے اوپر قبر بناؤ، جب کھودی تو میں ڈر گیا کیونکہ مردہ ۔۔۔ گورکن نے کھلی قبر میں کیا دیکھا؟ بتاتے ہوئے کانپ اٹھا

انسان زندگی میں کچھ بھی کرلے لیکن مرنے کے بعد اس کو اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہے اور اس کا حساب قبر میں رکھنے سے ہی شروع ہو جاتا ہے جب اس کام پر معمور فرشتے سوالات کرنا شروع کردیتے ہیں۔ زندگی میں تو ہمارے گناہ یا غلطیاں ایک دوسرے سے چھپ جاتی ہیں مگر مرنے کے بعد وہ کسی نہ کسی طرح سامنے ضرور آتی ہیں اور بروز قیامت خُدا سب سے ہی سوال کرے گا۔۔

کچھ لوگوں کی قبریں اس قدر پکی اور باقاعدہ تیار کروائی جاتی ہیں جیسے وہ ہمیشہ سلامت رہیں گیں لیکن کائنات کی ہر چیز کو زوال ہے۔ قبرستان کی رکھوالی کرنے اور قبریں تیار کرنے والے گورکن نے اپنی زندگی کے خوفناک واقعات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ: ” ایک مرتبہ مجھے کسی نے کہا کہ ایک قبر بنانی ہے لیکن وہ ہمارے دادا کی قبر کو کھود کر اسی کے اوپر بنائی جائے اور دادا کی موت کو تو ویسے بھی 25 سال گزر گئے ہیں تو شاید کھدائی کا وقت بھی زیادہ نہ لگے۔۔ میں نے ان کو منع کیا لیکن ان کی خواہش کی تکمیل کرتے ہوئے قبر کی کھدائی شروع کردی۔ جوں ہی میرا پیر مردے کے پیٹ پر لگا تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے وہ زندہ ہے، اس کی میت بالکل اس طرح روشن اور چمک رہی تھی کہ جیسے اسے ابھی دفنایا گیا ہو اور کفن میں اتنی خوشبو تھی کہ دیکھنے والے بھی حیران رہ گئے۔ ”

لیکن ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ جب ایک قبر کا اوپری حصہ تیز ہوا اور اندھی کے باعث کھلا تو ورثاء نے مجھ سے کہا کہ آپ اس کی دوبارہ چنائی کردو، اس کو بھر دو میں نے جب اس کو دوبارہ بنانے کی کوشش کی تو وہ قبر اس قدر گرم تھی کہ میں ڈر گیا کیونکہ وہ سردی کے دن تھے ہر طرف ٹھنڈ تھی، ساری زمین ٹھنڈی تھی لیکن بس وہ ایک ہی قبر گرم تھی۔۔ مجھے پہلی مرتبہ یہ احصاس ہوا کہ خُدا معاف کرے یہ انسان جو بھی ہے کس قدر خُدا کے عذاب میں مبتلا ہے کہ زمین بھی گرم ہے اور اطراف سے کیڑے مکوڑے بھی نکل رہے ہیں ۔۔