لاہور(ممتاز نیوز )وزیر اعظم کے معاون خصوصی سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے اپنے بیٹے اسامہ عبدالکریم کی گرفتاری کو پنجاب حکومت کی فسطائیت قرار دیا ہے اور کہا کہ ہے کہ ایک فرضی درخواست پر پہلے گرفتاری اور بعد میں مقدمہ حکومت کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ یہ اسی طرح کا مقدمہ ہے جس طرح چوہدری ظہور الہی پر بھینس چوری کا مقدمہ کیا گیا تھا۔پرویز الہی شاید اس کو بھول گئے ہیں۔انھوں نے کہا ایک فرضی درخواست پر گرفتاری عمل میں لائی گئ اور مقدمہ بعد میں درج کیا گیا جو کہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔انھوں نے کہا کہ پہلے مجھے ٹرائل کا نشانہ بنایا گیا اور جب کچھ نہ ملا تو اب اسامہ عبدالکریم کے خلاف جھوٹی کارروائی کی گئ۔اس میں سے بھی حکومت کو سوائے رسوائی کے کچھ نہیں ملے گا۔دریں اثنا وزیر اعظم کے معاون خصوصی شاہ اویس نورانی، وزیر اعظم کے مشیر سردار شاہ جہان یوسف ،سابق ممبر اسلامی نظریاتی کونسل مولانا علی محمد ابو تراب مولانا فضل الرحمن خلیل اور پروفیسر سجاد قمر نے اسامہ عبدالکریم کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پنجاب حکومت انتقامی کارروائیاں بند کرے۔انھوں نے کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب حکومت اپنی اخلاقی حیثیت کھو چکی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس طرح کی انتقامی کارروائیاں اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے۔دوسروں کے ساتھ انتقامی کارروائی کرتے ہوئے کل اپنا انجام بھی سوچ لیں
فرضی درخواست پربیٹے کی گرفتاری پنجاب حکومت کی فسطائیت ،بوکھلاہٹ کامنہ بولتاثبوت ہے ،حافظ عبدالکریم








