اسلام آباد: معروف صحافی اور سماجی کارکن عارف الحق عارف نے کہا ہےکہ پاکستان میں صحافت کا معیار بتدریج گرتا جا رہا ہے کیونکہ بہت سے صحافی ایسے متعصب فریق بن چکے ہیں جوایک طرف کی سنتے اور بات کرتے ہیں، اور مسخ شدہ انداز میں بیانیہ تیار کر کے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ اس طرح وہ نہ صرف صحافت کی بنیادی زمہ داری یعنی سچائی کو فروغ دینے میں ناکام ہو رہے ہیں ، بلکہ معاشرے میں عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔
وہ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیشن کے دوران اظہارخیال کررہے تھے۔
اس گفتگو میں چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمٰن، آزاد جموں کشمیر کےسابق سیکریٹری سلیم بسمل، گیلپ پاکستان کے بانی ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی، معروف صحافی اور کالم نگار رؤف کلاسرا اور دیگر ممتاز صحافیوں نے بھی شرکت کی۔
پاکستان میں صحافت کی موجودہ صورت حال پر اپنے مشاہدات پیش کرتے ہوئے عارف نے کہا کہ بڑھتی ہوِئی پولرائزیشن، الزام تراشی، جھوٹے بیانیے کی تعمیر، اور مخالفین کو دھمکیاں دینے سے ملک اور اس کے معاشرے پر نمایاں منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ صحافت کے سیاست اور اس کے نتیجے میں پورے معاشرے پر اثرانداز ہونے کی وجہ سے ایک صحافی کو جانبدار اور متعصب ہو کر کام نہیں کرنا چاہئے ۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا والوں کو آزادی سے پہلے کے صحافیوں جیسے ظفر علی خان، مولانا محمد علی جوہر، عبدالمجید سالک، چراغ حسن حسرت، اور غلام رسول مہر سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے، جو بیک وقت لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے مصنف اور مورخ بھی تھے جو ایک طرف لوگوں کو متحد کررہے تھے ، جبکہ دوسری طرف ان کی بہتر ی کے لیے رائے عامہ کی تشکیل بھی کر ہے تھے۔ اسپیکر نے ملک کی ترقی، نمو اور استحکام کے لیے آزاد اداروں کی تعمیر اور مضبوطی کو بھی ناگزیر قرار دیا۔ ان کی راِئَے میں اس مقصد کے حصول کے لیے سیاست دانوں اور پالیسی سازوں کو مضبوط، مخلص اور ایماندار ہونے کے ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے مفادات کے لیے اداروں کی سیاست نہ کریں۔ دوسری طرف، صحافیوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ میڈیا کو ریاست کے ایک موثر ستون کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے معروضیت کو برقرار رکھیں۔
پاکستان میں صحافت کا معیار بتدریج گرتا جا رہا ہے،عارف الحق عارف








