کراچی(نیوز ڈیسک) کراچی کے رہائشی علاقوں میں لاوڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی دھڑلے سے جاری ہے گلی محلے میں آنے والے گداگروں ،کباڑیوں ،ایمبولینسزکے ذریعے چندہ مانگنے والی فلاحی تنظیموں سمیت سبزی اور پھل فروشوں نے لاؤڈ اسپیکر کے بے دریغ استعمال سے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی گھروں میں بزرگ اورمریضوں کا سکون غارتاور اسکولوں میں طلبہ کی پڑھائی بری طرح متاثر ہو رہی ہےلیکن پولیس سمیت ضلعی انتظامیہ اور ڈی ایم سیز خاموش تماشائی بن کر رہ گئی ہیں تفصیلات کے مطابق شہر کے چند پوش علاقوں اور گیٹڈ کمیونٹی کو چھوڑ کر ہر گلی محلے میں اب یہ عام ہو گیا ہے کہ ریڑھی ، موٹر سائیکل رکشا اور پک اپ کے زریعے مختلف اشیاٗ بیچنے والوں نے لاوڈ اسپیکر اور مائکروفون لگالئے ہیں اور ان کے ذریعے گاہکوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اسی طرح ایمبولینسز کے ذریعے چندہ مانگنے والی این جی اوز نے بھی اسپیکر لگا رکھے ہوتے ہیں بعض اشیابیچنےوالے گلی اور سڑک سے گزر جاتے ہیں لیکن پک اپ اور ایمبولینسز گلی میں کسی ایک مقام پر کھڑی کر دی جاتی ہیں اور ان سے نکلنے والی تیز آواز مکینوں کے لئے کسی ازیت سے کم نہیں ہوتی ان افراد کو لوگوں کے آرام کا قطعاً کوئی خیال نہیں ہوتا آبادیوں میں یہ سلسلہ صبح سویرے شروع ہو کر رات دس بجے تک جاری رہتا ہےعلاقوں میں قائم اسکولوں کے طلبہ اور اساتذہ بھی اس شور سے نہیں بچ پاتےکراچی میں یہ سلسلہ اب بہت بڑھ گیا ہے شاید ہی اب کوئی پھیری والا آواز لگاتا ہو حیرت انگیز بات ہے کہاس عمل کے خلاف کسی بھی حکومتی ادارے نے اب تک کارروائی نہیں کی ہےاگر صرف لاوڈ اسپیکر ایکٹ کو ہی لے لیا جائے تو یہ اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جس پر علاقہ پولیس کو کارروائی کرنا چاہیئےجبکہ میونسپل قوانین کے تحت ڈی ایم سیز اور کے ایم سی بھی کارروائی کر سکتی ہیں ضلعی انتظامیہ بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں شہریوں کا کہنا ہے صوتی آلودگی انسانی صحت کے لئے کوڑا کرکٹ کی آلودگی سے بھی زیادہ خطرناک ہےلاوڈ اسپیکر اور میگا فون کے ذریعے اشیا بیچنے والوں کا آبادیوں میں داخلہ بند ہو نا چاہیے۔
گلی محلوں میں اشیا کی فروخت کیلئے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال، شہریوں کا سکون غارت








