بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دنیا بھر کے لوگ آن لائن پیسے کما رہے ہیں مگر پاکستانی یہاں بھی نمبر ون! بیوی کی تلاش کے لیے آن لائن دیا گیا اشتہار وائرل

جیسے کہ آج کل شادیوں کا سیزن چل رہا ہے آدھا ملک کسی نہ کسی عزیز رشتے دار کی شادی کی تیاری اور پلاننگ میں مصروف ہے تو کچھ لوگ شادی کر رہے ہیں جب کہ ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جن کی شادی تو نہیں ہو رہی ہے مگر وہ شادی کی خواہش میں ضرور مرے جا رہے ہیں-

اپ ورک پر آن لائن دلہن کا اشتہار

بس بیٹا اب تو شادی کر لو اتنی اچھی نوکری ہے بیوی گھر آجائے تو زندگی سنور جائے یہ وہ جملہ ہوتا ہے جو کنوارے بر سر روزگار لڑکوں کو اردگرد کے لوگوں کی طرف سے اکثر سننے کو ملتا ہے- مگر بیوی کوئی پھل تو ہے نہیں جس کو درخت سے اتار لیا جائے اور نہ ہی کوئی جنس ہے جس کو بازار سے خرید لیا جائے اور ہمارے معاشرے میں تو خود سے لڑکی ڈھونڈنا اتنا معیوب سمجھا جاتا ہے کہ انسان ایسا سوچتے ہوئے بھی گھبراتا ہے- ایسے ہی ایک نوجوان نے کسی رشتہ کروانے کی ایپ پر لڑکی ڈھونڈنے کے بجائے آن لائن نوکری اور فری لانسنگ کام ڈھونڈنے والی ایک ویب سائٹ پر انوکھا اشتہار دے ڈالا-

image

اشتہار میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایک مہینے کے لیے ایک بیوی درکار ہے جس کا تجربہ کار ہونا ضروری نہیں ہے- اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ مشکل نوکری نہیں ہے اور دلہن کا انتخاب انٹرویو کے بعد کیا جائے گا- جس کا معاوضہ 1500 ڈالر جو پاکستانی روپوں میں تین لاکھ 38 ہزار بنتے ہیں بتایا یہ اشتہار سوشل میڈیا پر دیکھتے ہی دیکھتے وائرل بھی ہو گیا- تاہم یہ پوسٹ اب اپ ورک سے ڈلیٹ کر دی گئی ہے مگر اس حوالے سے یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ مذکورہ نوجوان کو بیوی مل گئی ہے یا پھر اس نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا ہے-

پاکستانی نوجوان کی جانب سے بھی آن لائن بیوی کے لیے اشتہار

یاد رہے اس سال کے آغاز میں ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی نوجوان نے بھی اپ ورک پر اس سے ملتا جلتا اشتہار دیا تھا- جس میں اس کا کہنا تھا کہ اس کو ایک مہینے کے لیے ایک خوبصورت دلہن کی تلاش ہے۔ جس کے ذمہ وہ تمام فرائض ہوں گے جو کہ کسی بھی اچھی بیوی کے ذمے ہوتے ہیں-

image

اس معاملے میں ایک حوالے سے یہ نوجوان نمبر ون بھی رہا کیونکہ اس پاکستانی نوجوان نے معاوضے کے طور پر سب سے زیادہ 8000 ڈالر کی خطیر رقم کی پیش کش بھی کی تھی جو کہ پاکستانی اٹھارہ لاکھ کے مساوی رقم بنتی ہے- شہرت حاصل کرنے کا یہ طریقہ برا نہیں ہے کیوں کہ ویسے بھی لوگ کہتے ہیں کہ بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا مگر یہ بات یقینی ہے کہ ان نوجوانوں کے ان اشتہارات کی بنیاد پر ان کو شہرت تو مل سکتی ہے مگر بیوی کے ملنے کی امید نہ ہی رکھیں تو بہتر ہے-