مجھے اپنے شوہر کی یہ بات اچھی لی کہ یہ میرے ماں باپ کی عزت کرتا ہے اور ان کی ہر بات مانتا ہے۔ میرے بڑوں کو بھی یہ لڑکا اچھا لگا اور انھوں نے کہا کہ یہ آدمی ٹھیک ہے پھر والدین کی بات مان کر میں نے بھی ہاں کردی اور ہماری شادی ہوگئی“
یہ کہنا ہے سمیرا جوگی کا جن کی شادی حال ہی میں گلوکار محمد شاہد جوگی سے ہوئی ہے۔ ان دونوں کا تعلق سندھ کے شہر سکھر اور جوگیوں کی برادری سے ہے۔ انڈیپینڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے جوگی قبیلے کے ایک رکن نے بتایا کہ
“منگنی کے بعد لڑکے کو لڑکی کے گھر 3 ماہ تک رہنا ہوتا ہے یہ ایک طرح کی انٹرن شپ ہوتی ہے جس میں لڑکے کو لڑکی کے گھر کے سب کام کرنے پڑتے ہیں”
اب میری بیوی بھی میرے والدین کی عزت کرتی ہے
محمد شاہد جوگی کہتے ہیں “میں اپنی ہونے والی بیوی کے گھر رہا اور سب کام کرتا تھا۔ سبزی لاتا تھا، کاٹتا تھا، گھر کی صفائی اور سامان وغیرہ اٹھاتا تھا۔ اب میری بیوی بھی میرے گھر کے سب کام اسی لگن سے کرتی ہے اور میرے ماں باپ کی عزت کرتی ہے”
لڑکا کتنا مخلص ہے
جوگیوں کے قبیلے کی اس رسم کا مقصد لڑکے کے چال چلن کو پرکھنا ہوتا ہے۔ اس دوران لڑکے والے اندازہ کرلیتے ہیں کہ لڑکا ان کی بیٹی کے لئے کتنا مخلص ہے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ شادی سے انکار کرنا پڑے۔









