اسلام آباد ( ممتازنیوز) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری کی زیر صدارت چیمبر کی ٹریڈرز کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ گروپ لیڈر خالد اقبال ملک، کمیٹی کنوینر خالد چوہدری، جناح سپر مارکیٹ کی ایسوسی ایشن کے صدر اسد عزیز، جنرل سیکرٹری عبدالرحمٰن صدیقی، ای الیون کے صدر ظاہر عباسی، آبپارہ مارکیٹ کے جنرل سیکرٹری اختر عباسی، آئی ایٹ مرکز کے سیکرٹری زاہد قریشی اور ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے صدر خرم خان سمیت مختلف مارکیٹوں کے عہدیداران نے اجلاس میں شرکت کی۔ ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا گیا کہ کاروباری اوقات کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے چیمبرز آف کامرس اور تاجر تنظیموں کو پوری طرح اعتماد میں لیا جائےاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ ملک کی معیشت اس وقت بہت ابتر حالت میں ہے جس وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی سکڑ رہی ہیں۔ ڈالر بحران کی وجہ سے بزنس کمیونٹی کو باہر سے مال منگوانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ان حالات میں حکومت نے رات آٹھ بجے کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر تاجر برادری کو شدید تحفظات ہیں۔ لہذا انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ ملک کے چیمبرز آف کامرس، تاجر تنظیموں اور تاجر برادری کی مشاورت سے کاروباری اوقات کار طے کئے جائیں تا کہ متفقہ فیصلے سے توانائی کی بچت کی جائے اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی نقصان سے بچایا جا سکے۔گروپ لیڈر خالد اقبال ملک نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی قلت کی وجہ سے ملک کی درآمدات تقریبا رک چکی ہیں جس وجہ سے بڑے بڑے صنعتی یونٹس بند ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کو یکطرفہ فیصلے کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے معیشت کو بحال کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر ایک جامع حکمت عملی وضع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی دارالحکومت کے تاجروں کا ایک بڑا کنونشن منعقد کیا جائے جس میں کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کیلئے متفقہ تجاویز تیار کر کے حکومت کو پیش کی جائیں۔چیمبر کی ٹریڈرز کمیٹی کے کنوینر اور سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام کے اوقات میں تاجر سب سے مہنگی بجلی خریدتے ہیں کیونکہ پیک آورز کے دوران ان کو تقریبا 55روپے فی یونٹ ادا کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کی بچت کرنا چاہتی ہے جو ایک اچھا اقدام ہے تاہم پیک آورز کی بجلی کی کھپت کم ہونے سے حکومت کا بجلی کے بلوں کی مد میں ریونیو کم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت تمام سٹیک ہولڈڑز کے ساتھ مذاکرات کر کے اس مسئلے کا کوئی متفقہ حل نکالنے پر توجہ دے اور یکطرفہ فیصلے مسلط کرنے سے اجتناب کیا جائے۔ریسٹورنٹ ایسو سی ایشن کے صدر خرم خان، چیمبر کے سابق سینئر نائب صدر جمشید اختر شیخ، زاہد قریشی، اسد عزیز، طاہر عباسی، اختر عباسی اور دیگر نے بھی اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ بزنس کمیونٹی کی مشاورت سے ملکی مفاد میں فیصلے کئے جائیں جن کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
تاجروں کی مشاورت سے کاروباری اوقات کار طے کئے جائیں، احسن بختاوری








