بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چودھری شجاعت کو خاندان کے اندر سے دھوکا دیا گیا، شافع حسین

مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین کے صاحبزادے نے کہا ہے کہ چودھری شجاعت حسین کو خاندان کے اندر سے دھوکا دیا گیا۔
چودھری شجاعت حسین کے بیٹے شافع حسین نے نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد کو خاندان کے اندر سے دھوکا دیا گیا۔
چودھری شجاعت نے کوشش کی کہ خاندان میں خاندان میں سیاسی صلح ہو مگر دوسری طرف سے ایسی کوئی خواہش نہیں تھی۔
شافع حسین نے کہا کہ پہلے پرویز الہی نے خود کہا کہ پی ڈی ایم کو میری وزارت اعلی کے لیے منائیں اور جب چودھری شجاعت نے سب کو منا لیا تو پرویز الہی آخری منٹ میں بنی گالہ چلے گئے۔ اگر انہیں دوسری طرف ہی جانا تھا تو دعائے خیر نہ کراتے۔
ق لیگی رہنما نے کہا کہ پرویز الہی تو یہی کہتے ہیں کہ ایسا کرنے کے لیے انہیں اس وقت کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے کہا لیکن سوال یہ ہے کہ کب کہا؟
قمر جاوید باجوہ کا فون آیا تھا تو پارٹی صدر چوہدری شجاعت کو تو بتا دیتے۔ چوہدری شجاعت نے جب پوچھا کہ ایسا کیوں کیا تو پرویز الہی نے کہا کہ سمجھ نہیں آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ چودھری پرویز الہی نے ساری پی ڈی ایم کو کہا کہ میں بس عمران خان کو ٹال کر آتا ہوں۔ یہ ٹالنے گئے تو سارے ان کی واپسی کا انتظار کر رہے تھےلیکن پتہ چلا کہ وہ تو دوسری طرف چلے گئے ہیں۔ یہ تو خاندان کے اندر رہ کر ہمیں دھوکا دینے والی بات کی گئی۔
چودھری شافع حسین نے کہا کہ سیاسی خاندان اکٹھے ہوں تو فائدہ ہوتا ہے اور ہمیں بھی اکٹھے چلنے میں کوئی اعتراض نہیں،لیکن ایک شخص خود کو برتر سمجھتا ہے اور وہ شخص مونس الہی ہے۔ مونس الہی کا شجاعت حسین کے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ والا بیان غیرمناسب ہے۔ مونس نے جن سے سیاست سیکھی اب ان ہی کے بارے میں ایسی بات کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چودھری شجاعت حسین نے پہلی بار چودھری پرویز الہی کے کہنے پر پی ڈی ایم کے سامنے اسٹینڈ لیا۔ آصف زرداری بھی کہہ رہے تھے کہ انہوں نے بڑی مشکل سے نواز شریف کو پرویز الہی کیلیے منایا تھا۔ نظر آرہا تھا ایم پی ایز کس طرف جانا چاہتے ہیں اس لیے زیادہ کوشش نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب ہمارے کچھ ایم پی ایز سے رابطہ ہے لیکن کچھ اور آپشنز بھی ہیں۔ ایم پی ایز سے بات نہ بنی تو ایمرجنسی اور پارٹی سے نکالنے کے آپشنز بھی ہیں۔
چودھری شافع حسین نے کہا کہ شریف خاندان پر اعتبار نہ کرنے والی بات 20 سال پرانی ہے، اب حالات بدل چکے ہیں۔ اگر شریف خاندان برا تھا تو پرویز الہی نے کیوں کہا تھا کہ ن لیگ سے وزارت اعلی کی بات کریں۔