بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دوسرے ٹیسٹ میں کونوے کی سنچری، نیوزی لینڈ کے 4 کھلاڑی آؤٹ

پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ نے اوپنرز کے عمدہ کھیل کی بدولت میچ کے پہلے ہی دن اپنی پوزیشن مستحکم کر لی اور 4 وکٹوں کے نقصان پر 255 رنز بنا لیے ہیں۔
کراچی میں کھیلے جا رہے سیریز کے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ نیوزی لینڈ کے کپتان ٹم ساؤدھی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے باؤلنگ کی دعوت دی ۔
کیوی اوپنرز نے پراعتماد انداز میں اننگز کا آغاز کیا اور ابتدائی اوورز میں محتاط بیٹنگ کے بعد پاکستانی باؤلرز کو کوئی موقع نہ دیا۔
میر حمزہ کے سوا کوئی بھی پاکستانی باؤلر متاثر کن باؤلنگ نہ کر سکا اور ٹام لیتھم اور ڈیون کونوے مشتمل جوڑی نے سنچری شراکت مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ نصف سنچریاں بھی مکمل کیں۔
اس سے قبل ٹام لیتھم کو اس وقت ایک موقع ملا جب 20ویں اوور میں امپائر نے انہیں ایل بی ڈبلیو قرار دیا جس پر انہوں نے فوراً ریویو لیا جس میں واضح تھا کہ گیند ان کے بلے اندرونی کنارہ لینے کے بعد پیڈ سے ٹکرائی تھی۔
میر حمزہ کے اگلے اوور میں ڈیون کونوے کے خلاف بھی ایل بی ڈبلیو کی زوردار اپیل ہوئی اور پاکستان نے ریویو بھی لیا لیکن گیند وکٹوں سے کافی اوپر سے گزر رہی تھی لہٰذا پاکستانی ٹیم ایک ریویو بھی گنوا بیٹھی۔
دونوں کھلاڑیوں نے پہلے سیشن میں کوئی وکٹ نہ گرنے دی اور پہلی وکٹ کے لیے 134رنز کی شراکت قائم کی۔
پاکستان کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب نسیم شاہ کی گیند پر لیتھم کو ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا، انہوں نے 71رنز بنائے۔
دوسرے اینڈ سے کونووے نے عمدہ کھیل کا سلسلہ جاری رکھا اور کین ولیمسن کے ہمراہ ایک اور اہم شراکت قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی چوتھی سنچری اسکور کی۔
32 کے انفرادی اسکور پر کین ولیمسن اس وقت خوش قسمت ثابت ہوئے جب گیند ان کے بلے کا باہری کنارہ لیتی ہوئی وکٹ کیپر کے پاس گئی لیکن کسی بھی کھلاڑی نے اپیل کی اور یوں تجربہ کار کیوی بلے باز کو نئی زندگی مل گئی۔
تاہم اس شراکت کے 100 رنز مکمل ہونے کے ساتھ ہی پاکستان کو اس وقت اہم کامیابی ملی جب کونوے 122 رنز بنانے کے بعد سلمان علی آغا کی وکٹ بن گئے، ان کی اننگز میں 16 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔
ابھی نیوزی لینڈ کی ٹیم اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ کین ولیمسن 36 رنز بنانے کے بعد نسیم شاہ کو وکٹ دے بیٹھے۔
ہنری نکولس اور ڈیرل مچل نے اسکور کو 255 تک پہنچایا البتہ اسی اسکور پر سلمان علی آغا نے مچل کی وکٹیں بکھیر کر پاکستان کو چوتھی کامیابی دلائی۔
نیوزی لینڈ نے اب تک 4 وکٹوں کے نقصان پر 255 رنز بنائے ہیں، پاکستان کی جانب سے نسیم اور سلمان نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
اس سے قبل نئے سال میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے پاکستان نے ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئیں، نعمان علی کی جگہ حسن علی اور محمد وسیم جونیئر کی جگہ نسیم شاہ کو فائنل الیون کا حصہ بنایا گیا ہے۔
نیوزی لینڈ نے بھی میچ کے لیے ٹیم میں ایک تبدیلی کرتے ہوئے نیل ویگنر کی جگہ میٹ ہنری کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔
پاکستان کی ٹیم میچ میں تین فاسٹ باؤلرز اور صرف ایک اسپنر کے ساتھ میدان میں اتری ہے جبکہ اس کے برعکس نیوزی لینڈ نے تین اسپنرز کو ٹیم میں برقرار رکھا ہے۔
میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔
پاکستان: بابر اعظم(کپتان)، امام الحق، عبداللہ شفیق، شان مسعود، سعود شکیل، سرفراز احمد، سلمان علی آغا، حسن علی، نسیم شاہ، میر حمزہ اور ابرار احمد۔
نیوزی لینڈ: ٹم ساؤدھی(کپتان)، ٹام لیتھم، ڈیون کونوے، کین ولیمسن، ہنری نکولس، ڈیرل مچل، ٹام بلنڈل، مائیکل بریسویل، اش سودھی، میٹ ہنری اور اعجاز پٹیل۔