ملتان (مقبول حسین) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی،جنوبی پنجاب کے صدر شیخ جاوید اختر، جنوبی پنجاب کے سنیئرنائب صدر حاجی ندیم قریشی،غلہ منڈی کے صدر راجہ مدثر، پنجاب کے نائب صدر ملک عمران قیوم بھٹہ،ضلع ملتان کے چیئرمین حافظ عمران سجاد، اکبر چوک شہیداں کے صدر شیخ محمد شفیق،ملتان کے نائب صدر ندیم شیخ نے کہا ہے کہ زرعی خطہ ہونے کے باوجود شہریوں کو بروقت آٹے کی مقررہ قیمت پر فراہمی کے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے شہری شدید پریشانی سے دوچار ہیں فلور ملزاور چکیوں کے مالکان من مرضی سے مقررہ قیمت سے زائد کی وصولی جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے سفید پوش طبقہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ مجسٹریٹی نظام غیر فعال، پرائس کنٹرول کمیٹیاں کاغذی کاروائیوں تک محدود ہیں جبکہ ڈی ایف سی ملتان سب کچھ جاننے کے باوجود خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ملک کا 70 فی صد زرعی خطہ ہونے کے باوجود آج سبزی، پھل تک مہنگے داموں فروخت ہورہے ہیں جو کہ عام غریب شہری کی پہنچ سے دور ہیں آٹے کی صورتحال یہ ہے کہ اس وقت آٹے کی فی کلو قیمت ایک سو چالیس روپے تک پہنچ گئی ہے آلو، پیاز، ٹماٹر، سبز مرچ سمیت دیگر اشیائے ضروریہ بھی غریب شہری کی پہنچ سے دور ہیں لیکن حکومتی ایوانوں میں بیٹھا مقتدر طبقہ اشیائے ضروریہ پر کنٹرول کرنے کی بجائے بیان بازی تک محدود ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے عوامی مفاد میں عملی طور پر اقدامات کئے جائیں خواجہ سلیمان صدیقی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ گلی، محلہ، کالونی، چھوٹی بڑی شاہراہوں پر مارکیٹس اور بازاروں میں دکاندار من مرضی سے اشیائے خوردونوش و صرف کی قیمتوں کی من مرضی سے وصولی جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ان کے خلاف کاروائی کی بجائے سرکاری دفاتر میں سارا سار ا دن میٹنگ کرکے فوٹو سیشن سے خانہ پری کی جارہی ہے عوامی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات زیرو ہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے ہی سٹریٹ کرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اسی لئے حکومتی و انتظامی سطح پر عوامی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کو حقیقی معنوں میں یقینی بنایا جائے تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی ختم ہو۔
آٹا عوام کی پہنچ سے باہرہوچکا، مقتدر طبقہ بیان بازی تک محدود ہے،رہنمامرکزی تنظیم تاجران پاکستان








