اسلام آباد(ممتاز نیوز)سینیٹ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ سافٹ کو سے نواز شریف کو 2 بار، اور پھر مشرف کو نکالا گیا، عمران خان کو سمجھنا چاہیے تھا کہ ایک شخص نہیں ادارہ اہم ہوتا ہے، خان صاحب نے ساری چیزیں ایک فرد سے جوڑ دیں، سربراہ آتے جاتےہیں ادارہ بڑا ہوتا ہے اور وہ رہتا ہے۔
سینیٹ کمیٹی برائے دفاع کے سربراہ مشاہد حسین سید نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں حکومت تبدیلی کے مختلف طریقے استعمال ہوتے ہیں، ایک’’ملٹری کو‘‘ہوتا ہے جو 4 ہو چکے ہیں، ایک ’’سافٹ کو‘‘ہوتا ہے جس میں ٹینک نہیں آتے۔
مشاہد حسین سید نے کہا کہ سافٹ کو سے نواز شریف کو 2 بار، اور پھر مشرف کو نکالا گیا، عمران خان کو سمجھنا چاہیے تھا کہ ایک شخص نہیں ادارہ اہم ہوتا ہے، خان صاحب نے ساری چیزیں ایک فرد سے جوڑ دیں، سربراہ آتے جاتےہیں ادارہ بڑا ہوتا ہے اور وہ رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے غلطی یہ کی بہت آگے بڑھ کرافغان حکومت کی ترجمانی شروع کردی، افغانستان آزاد ہمسایہ ملک ہے اور جو بھی حکومت آئے وہ افغان ہے، یہ غلط فہمی نکال دیں کہ ہمارےبندے آگئے ہیں۔
سینیٹ کمیٹی برائے دفاع کے سربراہ نے کہا کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرنا سب کا مشترکہ فیصلہ تھا، کچھ ایشوز کو سیاست سے بالاتر رکھنا چاہیے، مذاکرات ایک شخص یا ادارہ نہیں کر سکتا وہ سب کی رضامندی سے فیصلہ ہوا تھا، جولائی 5جولائی 2022 کو پارلیمنٹ ہاؤس میں بریفنگ میں ساری جماعتیں تھیں۔
مشاہدحسین نے کہا کہ اس ایشو پر ہم نےکمیٹی اجلاس بلایا جس میں ارکان نے دہشت گردی پر تحفظات کا اظہارکیا، دہشتگردی کامقابلہ کیسے کرنا ہے اس پراسٹرٹیجک پالیسی واضح نہیں، کبھی اس پر گفتگو کرتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں آپریشنز کریں گے، ہم چاہتےکیا ہیں یہ واضح نہیں ہے۔
چیئرمین سینیٹ دفاعی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے نیکٹا بنائی جس کو اسلام آباد کے دفتر میں ناکارہ کردیا، دوسری وجہ ہماری نالائقی تیسری وجہ افغانستان میں تبدیلی کوسمجھ نہیں سکے۔
مشاہد حسین سید نے کہا کہ حکومت کو چاہیے اب چستی سے آگے بڑھے اور ڈٹ کر مقابلہ کرے، اگر اسلام آباد میں اقتدار کی کشمکش میں لگے رہیں گے تو ایشوز پر اثر پڑے گا۔
سافٹ کو سے نواز شریف کو 2 بار، اور پھر مشرف کو نکالا گیا، مشاہد حسین سید








